Loading… · لوڈ ہو رہا ہے…

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سات نکاتی مسودہ عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکراتی کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔
ویب ڈیسک||۲ منٹ مطالعہ

وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اتوار کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب اپنے مارچ کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت تحریری معاہدے اور 72 گھنٹوں میں عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کے بعد وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں سکیورٹی سے متعلق وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔

وفاقی وزرا نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو خیبر پختونخوا کے لیے آئینی اختیارات کے طور پر بیان کیا ہے، تاہم فی الحال ان میں سے کسی ایک کے اطلاق کا حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ آئینِ پاکستان میں دونوں اقدامات کے لیے الگ الگ شرائط، منظوری کا طریقہ کار اور مدّت مقرر کی گئی ہے۔ اب تک اس سلسلے میں کوئی رسمی اعلا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان تحریری معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات پر تمام سیاسی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ہی غور کیا جانا چاہیے۔

انتظامیہ نے تین ہزار رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی ۱۵ اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی۔ موجودہ اجازت پانچ اکتوبر کو ختم ہوگی، جبکہ پی ٹی آئی کا مارچ چار اکتوبر کو طے ہے۔

دہلی اور ممبئی میں سینکڑوں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ مانگا۔ دہلی میں پولیس نے احتجاجی مقام بند کرکے درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔

وزیر داخلہ کے مطابق بعض ادارے حکومتی کارکردگی میں رکاوٹ ہیں، اصلاحات کے لیے کاروباری برادری کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے پابندیوں کے باوجود ایران کی صنعتی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے برآمدات بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی ضرورت بیان کی۔

ٹی ٹی اے پی نے نیئر بخاری پر گورنر راج سے متعلق مؤقف بدلنے کا الزام لگایا ہے۔ پیپلز پارٹی رہنما نے الزام مسترد کردیا، جبکہ کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت دہشت گردی اور سکیورٹی صورتحال پر صوبائی حکومت کے ردعمل کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کرنے سے قبل اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی دعوت پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے پیش کرے گی۔
