واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست میں کردار ادا کیا، جبکہ ڈیموکریٹس نے ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کے بعد وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔
منگل کی شب امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا، تاہم انہوں نے فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے اپنی انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کیا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’میرے خیال میں اس کی ایک وجہ ایران تھا، لیکن ساتھ ہی لوگ یہ بھی سمجھتے تھے کہ میں نے ایران کے معاملے میں جو کچھ کیا، وہ کتنا اہم تھا۔‘‘
انہوں نے انتخابی نتائج کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھی منسلک کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ووٹرز ایران کے حوالے سے ان کی پالیسی کی حمایت کرتے تھے، تاہم جنگ کے معاشی اثرات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ڈیموکریٹس ایسی قانون سازی پیش کریں گے جس سے وہ اتفاق نہیں کریں گے، اور انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ ایسی قانون سازی کو روکنے کے لیے اپنا ویٹو اختیار استعمال کریں گے۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ قانون سازی پر اختلافات بالآخر دونوں جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں گے۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو ان کی انتخابی کارکردگی پر مبارک باد بھی دی، تاہم اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ انتخابی نتائج ان کی ذاتی شکست ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں اسے اپنے لیے دھچکا نہیں سمجھتا۔‘‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ خود انتخابی میدان میں ہوتے تو ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی بہتر ہوتی۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی ذرائع ابلاغ نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کی پیش گوئی کی۔
ان نتائج سے کانگریس میں ریپبلکنز کی وہ اکثریت ختم ہونے کا امکان پیدا ہوا جس نے ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے دو برسوں میں ان کے قانون سازی کے ایجنڈے کی حمایت کی تھی۔
ایران جنگ اور ایندھن کی قیمتوں کے انتخابی نتائج پر اثرات
ایران کے خلاف جنگ انتخابی مہم کے دوران ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آئی، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے امریکی گھرانوں اور کاروباری اداروں کو متاثر کیا۔
فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل کو متاثر کیا۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے مجموعی تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں عام پیٹرول کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 36 فیصد زیادہ تھیں، جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے روزمرہ اخراجات کے بارے میں عوامی خدشات کو مزید بڑھایا، جبکہ ٹرمپ کی درآمدی محصولات اور دیگر معاشی پالیسیوں کے اثرات بھی انتخابی بحث کا حصہ رہے۔
ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اخراجات عارضی ہیں اور لڑائی ختم ہونے کے بعد توانائی کی قیمتوں میں کمی آ جائے گی۔
تاہم انہوں نے نہ تو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے کسی وقت کا اعلان کیا اور نہ ہی تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات فراہم کیں۔
انتخابی شکست کے بعد ٹرمپ کی ریپبلکن امیدواروں پر تنقید
انتخابات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ وہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کی وجوہات بیان کریں گے اور اپنی ہی جماعت کے بعض رہنماؤں پر تنقید شروع کر دی۔
انہوں نے خاص طور پر ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو دوبارہ انتخاب کی کوشش میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا سے شکست کھا گئے۔
ٹرمپ نے ایبٹ پر ریپبلکن اصولوں سے انحراف کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ اگر وہ پارٹی کے ایجنڈے کے ساتھ وابستہ رہتے تو شکست سے بچ سکتے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پارٹی امیدواروں کی حمایت کے لیے کافی کوششیں کیں، تاہم بعض امیدوار ووٹرز کی مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی جب ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران آئیووا اور کنساس سمیت کئی ریاستوں کا دورہ کیا تھا اور ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں جلسوں سے خطاب کیا تھا۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ کی پالیسیوں پر کیسے اثر انداز ہوگی؟
وسط مدتی انتخابات کے نتائج واشنگٹن میں سیاسی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کو صدارت کے علاوہ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر بھی کنٹرول حاصل تھا، جس کی بدولت وہ اپنی جماعت کے قانون سازوں کی حمایت سے قانون سازی اور حکومتی تقرریوں کے فیصلے آگے بڑھا سکتی تھی۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کی صورت میں ٹرمپ کے لیے ٹیکسوں، امیگریشن اور وفاقی اخراجات سے متعلق قوانین حزبِ اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے بغیر منظور کرانا مشکل ہو جائے گا۔
سینیٹ کو ایسی صدارتی نامزدگیوں کو روکنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا جن کی توثیق ایوانِ بالا سے ضروری ہوتی ہے، جبکہ کانگریس کی کمیٹیاں حکومتی فیصلوں اور انتظامیہ کی کارکردگی کی تحقیقات کر سکیں گی۔
تاہم صدر ٹرمپ کے پاس انتظامی اختیارات اور قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار برقرار رہے گا۔
امریکی آئینی نظام کے تحت صدارتی ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
اس صورت حال میں سرکاری فنڈنگ اور قانون سازی کی دیگر ترجیحات پر صدر اور کانگریس کے درمیان اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے لیے اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
نئی امریکی کانگریس جنوری 2027 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی، جس کے ساتھ صدر ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آخری دو سال شروع ہوں گے۔
انتخابی نتائج امریکی سیاست کے اس تاریخی رجحان کی بھی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت برسراقتدار صدر کی جماعت کو عموماً وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی نشستوں پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
ڈیموکریٹس کے لیے کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنا ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے اور حکومتی اقدامات کی نگرانی بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ کو اپنی قانون سازی کی ترجیحات آگے بڑھانے کے لیے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے ساتھ مذاکرات کرنے یا صدارتی ویٹو اور انتظامی اختیارات پر انحصار کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
ایران سے متعلق امریکی پالیسی بھی آئندہ مہینوں میں زیرِ بحث رہنے کا امکان ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کو جنگ کے معاشی اثرات اور تہران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے امکانات سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔




