واشنگٹن: تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں کامیابیوں کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کے آخری دو سال میں داخل ہو رہے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر امریکی ذرائع ابلاغ نے ٹیکساس، کنساس اور جنوبی کیرولائنا سمیت ریپبلکنز کے زیرِ قبضہ کئی نشستوں پر ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد سینیٹ میں ان کی اکثریت کی پیش گوئی کی ہے۔
ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں بھی مزید نشستیں حاصل کی ہیں، تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی تازہ ترین دستیاب رپورٹ میں اس ایوان کے کنٹرول کی تصدیق نہیں کی تھی۔
یہ انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب عوام میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، ایران کے خلاف جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں سے متعلق خدشات پائے جا رہے تھے۔
ریپبلکن اکثریت والی ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابیاں
جنوبی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دے کر 1998 کے بعد ریاست میں سینیٹ کا انتخاب جیتنے والی پہلی ڈیموکریٹ امیدوار ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
ڈارلین گراہم، آنجہانی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں، جنہیں اپنے بھائی کی وفات کے بعد ان کی نشست پر مقرر کیا گیا تھا۔ انہیں مکمل مدت کے لیے انتخاب لڑنے کی غرض سے صدر ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل تھی۔
ان کی شکست اس لحاظ سے اہم ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں تقریباً 18 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی۔
اوہائیو میں سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ براؤن نے ریپبلکن امیدوار جان ہسٹڈ کو خصوصی انتخاب میں شکست دی۔ یہ انتخاب نائب صدر جے ڈی وینس کی سابقہ سینیٹ نشست کی باقی مدت پوری کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
اس کامیابی کے بعد شیروڈ براؤن 2024 کے انتخابات میں شکست کے بعد دوبارہ سینیٹ میں واپس آ گئے ہیں۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر نے بھی سینیٹ کی نشست جیت لی، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی جارجیا اور نیو ہیمپشائر میں اپنی نشستیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
آئیووا میں ڈیموکریٹ امیدوار جوش ٹیوریک نے ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کو شکست دی۔
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا جب صدر ٹرمپ کی تجارتی محصولات کی پالیسیوں کے کسانوں پر اثرات کے حوالے سے خدشات سامنے آ رہے تھے۔ آئیووا کے کسانوں کے کاروبار کا ایک حصہ زرعی مصنوعات کی برآمدات اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی پر منحصر ہے۔
ریپبلکنز کی حمایت کرنے والی ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابیوں نے سینیٹ میں ان کی اکثریت حاصل کرنے میں کردار ادا کیا اور روایتی ڈیموکریٹ حلقوں سے باہر ووٹنگ کے رجحانات میں تبدیلی کی نشاندہی کی۔
مہنگائی اور ایران کے خلاف جنگ انتخابی مہم کے اہم موضوعات
انتخابی مہم کے دوران معاشی مسائل نمایاں رہے، جبکہ ووٹرز نے گھریلو اخراجات، ایندھن کی قیمتوں اور درآمدی اشیا پر عائد محصولات کے اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔
فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکی فوجی کارروائیاں بھی انتخابی بحث کا حصہ بنیں، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین اور کاروباری اداروں کو متاثر کیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے لیے ایس ایس آر ایس کی جانب سے کیے گئے ایگزٹ پولز کے مطابق تقریباً نصف ووٹرز نے انتخابات کو صدر ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کا موقع قرار دیا۔
سروے میں تقریباً 70 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس صدارتی اختیارات کی زیادہ مؤثر نگرانی کرے، جبکہ تقریباً تین چوتھائی افراد نے ملک کی موجودہ صورت حال پر ناراضی یا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی تھی اور اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ وسط مدتی انتخابات کو ان کی صدارت کے بارے میں عوامی فیصلے کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ تصور کریں کہ ٹرمپ خود انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
جارجیا سے اپنی نشست برقرار رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان اوسوف نے انتخابی نتائج کو ٹرمپ کی قیادت کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا۔
دوسری جانب ریپبلکنز نے انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹ امیدواروں کو خصوصاً امیگریشن، ٹیکسوں اور سرکاری اخراجات سے متعلق معاملات پر مرکزی سیاسی دھارے سے ہٹ کر مؤقف رکھنے والے امیدواروں کے طور پر پیش کیا۔
تاہم ڈیموکریٹس نے ان الزامات اور سیاسی تشریحات کو مسترد کر دیا۔
ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی اکثریت متوقع
ڈیموکریٹک پارٹی نے 435 ارکان پر مشتمل امریکی ایوانِ نمائندگان میں بھی مزید نشستیں حاصل کی ہیں، جہاں اکثریت کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز اور ڈیسیژن ڈیسک ایچ کیو نے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے پاس جانے کی پیش گوئی کی ہے۔
تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی تازہ ترین دستیاب رپورٹ میں ایوان کے کنٹرول کا حتمی اعلان نہیں کیا تھا، جبکہ کئی انتخابی حلقوں کے نتائج بھی آنا باقی تھے۔
اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں تو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت انہیں ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کے بعض حصے روکنے، ان کی انتظامیہ کے اقدامات پر سماعتیں کرنے اور وفاقی تقرریوں پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع دے گی۔
سینیٹ کا کنٹرول خاص طور پر عدالتی تقرریوں کے حوالے سے اہم ہوگا، کیونکہ وفاقی ججوں کی نامزدگیوں کی توثیق ایوانِ بالا سے ضروری ہوتی ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار برقرار رہے گا، جبکہ صدارتی ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
اس صورت حال میں ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے باقی دو برسوں کے دوران وفاقی اخراجات، امیگریشن اور خارجہ پالیسی پر صدر اور کانگریس کے درمیان اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انتخابات کی وفاقی نگرانی پر تنقید
وسط مدتی انتخابات کے دوران وفاقی سطح پر انتخابی نگرانی کے معاملے پر بھی تنازع سامنے آیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق تمام 50 ریاستوں میں تقریباً ایک ہزار انتخابی نگران اور مبصر تعینات کیے گئے تھے۔ محکمے نے اسے انتخابی دن کی نگرانی کی اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا۔
ڈیموکریٹس نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی اہلکاروں کی موجودگی بعض ووٹرز کو حقِ رائے دہی استعمال کرنے سے روک سکتی ہے۔
رائٹرز کے تجزیے کے مطابق محکمہ انصاف کی جانب سے نشاندہی کیے گئے تقریباً دو تہائی علاقوں میں 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ حمایت حاصل ہوئی تھی۔
کئی ریاستوں کے انتخابی حکام نے وفاقی نگرانی کے دوران کسی مسئلے کی اطلاع نہیں دی۔
تاہم نیو میکسیکو کے حکام نے بتایا کہ ایک کاؤنٹی میں وفاقی انتخابی نگرانوں کی جانب سے غیر معمولی سوالات پوچھے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
بعد ازاں امریکی محکمہ انصاف نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو حل کیا جائے گا۔
نئی کانگریس جنوری 2027 میں ذمہ داریاں سنبھالے گی
نومنتخب امریکی کانگریس جنوری 2027 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی، جس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کا آخری نصف حصہ شروع ہوگا۔
کانگریس میں سیاسی طاقت کی تقسیم میں تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی سرکاری فنڈنگ حاصل کرنے، قانون سازی منظور کرانے اور حکومتی و عدالتی تقرریوں کی توثیق حاصل کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ڈیموکریٹس کو کانگریس کے ذریعے حکومتی اقدامات کی تحقیقات کرنے اور انتظامیہ سے سرکاری دستاویزات طلب کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔
انتخابی نتائج امریکی سیاست کے اس تاریخی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت برسراقتدار صدر کی جماعت کو عموماً وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی نشستوں پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
ٹرمپ کے لیے آئندہ دو برسوں میں ایک اہم چیلنج ایسی کانگریس کے ساتھ معاملات طے کرنا ہوگا جہاں ڈیموکریٹس قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے معاملات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں۔
کانگریس میں نشستوں کی حتمی تقسیم باقی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور متعلقہ ریاستوں کی جانب سے انتخابی نتائج کی باضابطہ توثیق کے بعد واضح ہوگی۔




