جمرود: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو سپروائزر جلیل خان کو اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ چپری گاؤں میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر مسلح افراد نے گزشتہ شب گھر واپس جاتے ہوئے پولیو سپروائزر کو اغوا کیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) وقار احمد نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد جلیل خان کو نامعلوم مقام پر لے گئے۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور مغوی کی بازیابی کے لیے اہم راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق اغوا میں ملوث افراد کی شناخت اور واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں تلاش جاری ہے۔
خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے
جمرود میں اغوا کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صوبے کے مختلف اضلاع میں انسداد پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو حملوں اور اغوا کے واقعات کا سامنا ہے۔
3 نومبر کو ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔
اس سے قبل ضلع ٹانک کی یونین کونسل شیخ عطار کے گاؤں جیوس میں نامعلوم مسلح افراد نے چار پولیو کارکنوں کو اغوا کر لیا تھا۔
اسی طرح جنوبی وزیرستان زیریں کے علاقے اعظم ورسک میں بھی پولیو ٹیم کے دو ارکان کو اغوا کیا گیا تھا، تاہم بعد میں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔
ان واقعات کے باعث صوبے میں انسداد پولیو مہم کے دوران طبی عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ملک کے 97 اضلاع میں انسداد پولیو مہم جاری
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق ملک بھر کے 97 منتخب اضلاع میں خصوصی انسداد پولیو مہم 2 نومبر سے جاری ہے، جو 8 نومبر تک جاری رہے گی۔
اس مہم کے دوران تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بچوں تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے لیے دو لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ مہم ملک میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد شروع کی گئی ہے، جن میں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر گردش کر رہا ہے۔
پولیو کارکنوں کے خلاف تشدد اور اغوا کے واقعات ان علاقوں میں بچوں تک ویکسین کی رسائی کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں جہاں پہلے ہی سکیورٹی کے مسائل موجود ہیں۔
مغوی کی بازیابی کے لیے کارروائی جاری
پولیس حکام کے مطابق جلیل خان کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن اور اہم راستوں کی نگرانی جاری ہے۔
تاحال کسی گروہ نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی گرفتاری کی تصدیق ہوئی ہے۔
حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر انسداد پولیو مہم میں شریک طبی عملے کی حفاظت اور دشوار گزار علاقوں میں ویکسین کی فراہمی کو درپیش مسائل کو نمایاں کیا ہے۔





