واشنگٹن: تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں مسلمان، فلسطینی نژاد امریکی اور ترقی پسند ڈیموکریٹ امیدواروں نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ صحت، معاشی عدم مساوات، امیگریشن اور خارجہ پالیسی جیسے مسائل پر انتخابی مہم چلانے والے کئی امیدوار اب امریکی کانگریس اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔
کامیاب قرار دیے گئے امیدواروں میں نیو جرسی سے غزہ میں رضاکارانہ طبی خدمات انجام دینے والے سرجن آدم حماوی، نیویارک سے فلسطینی نژاد امریکی سماجی کارکن ابر کواس اور نیویارک ہی سے افریقی اور لاطینی امریکی نژاد سماجی کارکن ڈاریالیزا آویلا شیوالیئر شامل ہیں۔
ان امیدواروں کی کامیابیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس میں اپنی نشستوں کی تعداد بڑھا رہی ہے۔ ان انتخابات میں بڑھتے ہوئے روزمرہ اخراجات، ایران کے خلاف جنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق خدشات اہم موضوعات رہے ہیں۔
غزہ میں خدمات انجام دینے والے سرجن آدم حماوی نیو جرسی سے کامیاب
مصری نژاد امریکی سرجن اور امریکی فوج کے سابق اہلکار آدم حماوی کو نیو جرسی کے 12ویں کانگریسی ضلع سے کامیاب قرار دیا گیا ہے، جہاں انہوں نے ریپبلکن امیدوار گریگ میلے کو شکست دی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے منگل کی شام ان کی کامیابی کی تصدیق کی۔ دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق آدم حماوی نے تقریباً 74 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس کامیابی کے بعد وہ نیو جرسی سے امریکی کانگریس کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان نمائندے بن گئے ہیں۔
آدم حماوی عراق جنگ کے دوران امریکی فوج میں سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے 2004 میں ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے کے بعد زخمی ہونے والی ٹیمی ڈک ورتھ کے علاج میں بھی حصہ لیا تھا، جو اب امریکی سینیٹر ہیں۔
بعد ازاں حماوی نے 2024 اور 2025 میں غزہ میں طبی امدادی مشنوں کے دوران رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور جنگ سے متاثرہ مریضوں کا علاج کیا۔
اپنی انتخابی مہم میں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت کی مخالفت کی اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
وہ جنوری 2027 میں نئی کانگریس کے قیام کے بعد ریٹائر ہونے والی ڈیموکریٹ رکن بونی واٹسن کولمین کی جگہ سنبھالیں گے۔
ابر کواس نیویارک کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب
فلسطینی نژاد امریکی سماجی کارکن ابر کواس نے نیویارک کے 12ویں ریاستی سینیٹ ضلع سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار ہان کھون ٹو کو شکست دی۔
نیویارک کے نشریاتی ادارے NY1 کے جاری کردہ نتائج کے مطابق تقریباً 91 فیصد متوقع ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک ابر کواس نے 74.5 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
ان کی کامیابی کو نیویارک کی ریاستی قانون ساز اسمبلی میں فلسطینی نژاد امریکیوں اور مسلمان خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ابر کواس فلسطینی پناہ گزینوں کی بیٹی ہیں اور گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے تارکین وطن کے حقوق، پولیس کے نظام، معاشی عدم مساوات اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے جون میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں ریاستی اسمبلی کے رکن اسٹیون راگا کو شکست دے کر پارٹی کی نامزدگی حاصل کی تھی۔ اس مقابلے میں انہوں نے 60.3 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
ان کا انتخابی حلقہ مغربی کوئنز کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہے، جن میں آسٹوریا، لانگ آئی لینڈ سٹی، سنی سائیڈ، ووڈ سائیڈ اور جیکسن ہائٹس شامل ہیں۔
ابر کواس نیویارک کے دارالحکومت البانی میں قائم ریاستی سینیٹ کی رکن ہوں گی، نہ کہ واشنگٹن میں قائم امریکی وفاقی سینیٹ کی۔
ڈاریالیزا آویلا شیوالیئر نیویارک سے کانگریس کی نشست جیت گئیں
ڈیموکریٹک سوشلسٹ اور افریقی و لاطینی امریکی نژاد سماجی کارکن ڈاریالیزا آویلا شیوالیئر کو نیویارک کے 13ویں کانگریسی ضلع سے کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ اس حلقے میں مین ہیٹن اور برونکس کے بعض علاقے شامل ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے منگل کو ان کی کامیابی کی پیش گوئی کی۔ اس سے قبل وہ جون میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں پانچ مرتبہ کانگریس کے رکن رہنے والے ایڈریانو ایسپائیات کو شکست دے چکی تھیں۔
آویلا شیوالیئر اس سے پہلے تارکین وطن اور ملک بدری کا سامنا کرنے والے خاندانوں کی مدد کرنے والی تنظیموں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔
وہ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور امریکا میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کی بھی حامی رہی ہیں۔
ان کی انتخابی مہم کو نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور دیگر ترقی پسند سیاسی کارکنوں کی حمایت حاصل تھی۔
ان کی کامیابی، کلیئر ویلڈیز اور بریڈ لینڈر کے انتخاب کے ساتھ، کانگریس میں نیویارک کی ترقی پسند سیاسی تحریک سے وابستہ نمائندوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنی ہے۔
مشی گن میں عبدالالسید کی تاریخی سینیٹ نشست کے لیے جدوجہد
مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالالسید امریکی سینیٹ کی نشست کے لیے سابق ریپبلکن رکنِ کانگریس مائیک راجرز کے مقابلے میں ہیں۔
اگر عبدالالسید کامیاب ہوتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ان کی کامیابی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کی دستیاب رپورٹنگ میں ابھی کسی امیدوار کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے عبدالالسید کی کامیابی فی الحال غیر مصدقہ ہے۔
پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور صحتِ عامہ کے سابق عہدیدار عبدالالسید نے اگست میں کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز کو شکست دے کر ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کی تھی۔
ان کی انتخابی مہم میں تمام شہریوں کے لیے صحت کی سہولتوں کی فراہمی، معاشی عدم مساوات، انتخابی مہمات کی مالی معاونت کے نظام میں اصلاحات اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے جیسے مطالبات شامل رہے ہیں۔
مشی گن کی انتخابی اہمیت اور فلسطین سے متعلق امریکی پالیسی پر اختلافات کے باعث اس مقابلے کو ملک بھر میں توجہ حاصل ہوئی۔
صدر ٹرمپ اور دیگر ریپبلکن رہنماؤں کو عبدالالسید کی مسلم شناخت سے متعلق اپنے بیانات پر تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
سیاسی نمائندگی میں اضافہ اور اس کی اہمیت
انتخابی نتائج ڈیموکریٹک پارٹی، خصوصاً اس کے ترقی پسند دھڑے میں مسلمان، عرب نژاد امریکی اور دیگر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
اگرچہ ان امیدواروں کے فلسطینی حقوق اور معاشی عدم مساوات جیسے معاملات پر مؤقف میں مماثلت پائی جاتی ہے، تاہم انہوں نے مختلف انتخابی حلقوں سے مہم چلائی ہے اور ان کی آئندہ ذمہ داریاں بھی مختلف ہوں گی۔
آدم حماوی اور ڈاریالیزا آویلا شیوالیئر امریکی کانگریس کے وفاقی ایوانِ نمائندگان میں خدمات انجام دیں گے، جہاں قومی قانون سازی، سرکاری اخراجات اور خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب ابر کواس نیویارک کی ریاستی قانون ساز اسمبلی میں خدمات انجام دیں گی، جہاں رہائش، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور ریاستی اخراجات جیسے معاملات پر قانون سازی ہوتی ہے۔
ان امیدواروں کی انتخابی مہمات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطین سے متعلق امریکی پالیسی کی مخالفت اب صحت، امیگریشن اور گھریلو اخراجات جیسے مسائل پر مشتمل وسیع تر سیاسی ایجنڈے کا حصہ بن رہی ہے۔
نومنتخب قانون ساز جنوری 2027 میں اپنے عہدے سنبھالیں گے۔
قانون سازی اور پالیسیوں پر ان کے اثر و رسوخ کا انحصار کانگریس میں جماعتوں کی اکثریت، پارٹی قیادت اور ان کی تجاویز کو حاصل ہونے والی سیاسی حمایت پر ہوگا۔




