واشنگٹن: ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید نے امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کا انتخاب جیت کر کانگریس کے ایوانِ بالا کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی انتخابی پیش گوئیوں کے مطابق عبدالسید نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔
عبدالسید نے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہونے والی نشست حاصل کی ہے۔ ان کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر رہے ہیں، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں ان کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابات میں اپنی متوقع کامیابی کے بعد حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے عبدالسید نے خوشی کا اظہار کیا اور مشی گن کے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’مشی گن، ہم نے کر دکھایا!‘‘
عبدالسید نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں منتخب سینیٹر کی حیثیت سے اپنے حامیوں کے سامنے کھڑے ہونے پر فخر اور اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔
انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو بھی مخاطب کیا اور نئے سینیٹرز سے حلف لینے میں نائب صدر کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے ایک طنزیہ تبصرہ کیا۔
عبدالسید نے کہا، ’’جے ڈی، حبیبی، اس میں ایک دلچسپ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحت جنوری میں مجھ سے حلف لینا تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘
عربی زبان میں لفظ حبیبی محبت یا اپنائیت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کا عمومی مطلب ’’میرے عزیز‘‘ ہے۔
ان کا یہ تبصرہ انتخابی مہم کے دوران جے ڈی وینس کے ساتھ ہونے والے سیاسی اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا، جب نائب صدر نے ڈیموکریٹ امیدوار کے سیاسی نظریات اور امریکی اقدار سے ان کی وابستگی پر سوالات اٹھائے تھے۔
مذہبی شناخت اور سیاسی نظریات پر اختلافات کے بعد کامیابی
عبدالسید پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر، صحتِ عامہ کے سابق عہدیدار اور مصری تارکین وطن کے بیٹے ہیں۔
انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں صحت کے نظام میں اصلاحات، معاشی عدم مساوات کے خاتمے اور سیاست میں بڑی کمپنیوں کے مالی اثر و رسوخ کو محدود کرنے جیسے معاملات کو ترجیح دی۔
ان کی تجاویز میں ’’میڈیکیئر فار آل‘‘ پروگرام کے ذریعے تمام شہریوں کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
مشی گن کی سیاسی اہمیت اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مستقبل کی پالیسیوں سے متعلق اختلافات کے باعث اس انتخاب نے توجہ حاصل کی۔
عبدالسید نے اگست میں کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونز کو پرائمری انتخابات میں شکست دے کر ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کی تھی۔
اس مقابلے میں اسرائیل اور امریکی خارجہ پالیسی کے بارے میں مختلف مؤقف رکھنے والے سیاسی گروپوں نے انتخابی مہمات پر رقوم خرچ کی تھیں۔
بعد ازاں ہیلی اسٹیونز نے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا، جس کی وجہ انہوں نے عبدالسید کے سیاسی مؤقف سے اختلافات کو قرار دیا۔
انتخابی مہم کے دوران اکتوبر میں مشی گن میں ہونے والے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے عبدالسید پر امریکی روایات کی توہین کا الزام لگایا اور ان کے سیاسی نظریات پر تنقید کی۔
عبدالسید نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندانی پس منظر اور عوامی خدمت سے وابستگی امریکی اقدار سے مطابقت رکھتی ہے۔
’ان شاء اللہ‘ سے ’الحمدللہ‘ تک کا سفر
عبدالسید نے اپنی کامیابی کے بعد عربی زبان کے الفاظ ’’ان شاء اللہ‘‘ اور ’’الحمدللہ‘‘ کا بھی ذکر کیا۔
انتخابی مہم کے دوران وہ اپنی ممکنہ کامیابی کے حوالے سے بار بار ’’ان شاء اللہ‘‘ کہتے رہے، جس کا مطلب ہے ’’اگر اللہ نے چاہا‘‘۔
نتائج سامنے آنے کے بعد انہوں نے حامیوں سے کہا کہ اب امید کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ’’ان شاء اللہ‘‘ کو ’’الحمدللہ‘‘ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘۔
ان کے یہ ریمارکس ایک ایسے امیدوار کی کامیابی کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں جس کی مسلم شناخت انتخابی بحث کا حصہ بنی رہی۔
جے ڈی وینس نئے سینیٹرز سے حلف کیوں لیں گے؟
امریکی قانون کے تحت سینیٹ کے صدر کی ذمہ داریوں میں نومنتخب سینیٹرز سے حلف لینا بھی شامل ہے۔
امریکا کا نائب صدر سینیٹ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتا ہے اور روایتی طور پر نئی کانگریس کے قیام کے موقع پر نومنتخب سینیٹرز سے حلف لیتا ہے۔
تاہم نائب صدر کی عدم موجودگی میں سینیٹ کے صدر پرو ٹیمپور بھی یہ ذمہ داری انجام دے سکتے ہیں۔
اس لیے عبدالسید کا جے ڈی وینس سے متعلق تبصرہ ایک ایسی ذمہ داری کی طرف اشارہ تھا جو عموماً نائب صدر انجام دیتا ہے، نہ کہ ایسی آئینی پابندی کی طرف جس کے تحت وینس کا ذاتی طور پر ان سے حلف لینا لازمی ہو۔
عبدالسید کی کامیابی امریکی سیاست کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
عبدالسید کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی نے ان ریاستوں میں بھی انتخابی کامیابیاں حاصل کی ہیں جہاں پہلے ریپبلکنز کو برتری حاصل تھی۔
ان کا انتخاب امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے، کیونکہ وہ امریکی سینیٹ میں خدمات انجام دینے والے پہلے مسلمان ہوں گے۔
ان کی کامیابی مشی گن میں ترقی پسند معاشی اور خارجہ پالیسی کی تجاویز کے لیے حمایت کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جہاں اس انتخاب پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی توجہ مرکوز رہی۔
یہ نتیجہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر صحت کی سہولتوں، انتخابی مہمات کے لیے مالی معاونت اور اسرائیل و فلسطین سے متعلق امریکی پالیسی پر جاری اختلافات کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔
عبدالسید جنوری 2027 میں چھ سالہ مدت کے لیے امریکی سینیٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
تاہم اپنی قانون سازی کی ترجیحات کو عملی شکل دینے کی ان کی صلاحیت کا انحصار دیگر سینیٹرز کی حمایت، ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مذاکرات اور کانگریس و ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان طاقت کے توازن پر ہوگا۔




