ریاض: یمن میں سرگرم سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے منگل، 3 نومبر کو سعودی عرب کے علاقے مکہ مکرمہ میں ایک ڈرون کو فضا میں روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ واقعہ یمن کی حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ڈرون مار گرانے کی اطلاع دی، تاہم انہوں نے ڈرون کے مقامِ روانگی، ممکنہ ہدف یا کسی جانی و مالی نقصان سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس سے قبل 30 اکتوبر کو بھی سعودی اتحاد نے مکہ مکرمہ کے علاقے میں حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی تنظیم نے اس روز سعودی عرب کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا ہدف سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں، نہ کہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر۔
دونوں فریقوں کے متضاد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں میں اضافہ
تازہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں کی متعدد اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
30 اکتوبر کو سعودی اتحاد نے مغربی سعودی عرب کی جانب آنے والے ایک کروز میزائل کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل سعودی حکام نے ریاض میں مار گرائے گئے میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک شہری کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔
حوثیوں نے بھی سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، تاہم ان حملوں کی کامیابی سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد مارچ 2015 میں یمن کی جنگ میں اس وقت شامل ہوا تھا جب حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔
حالیہ کشیدگی نے شہری تنصیبات، توانائی کی فراہمی اور علاقائی بحری تجارتی راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ تہران اور ریاض کے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ ایسے نئے علاقائی سلامتی انتظامات پر بات چیت جاری ہے جن میں غیر ملکی فوجی مداخلت شامل نہ ہو۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے تہران کا دورہ کیا تھا، جس کا مقصد خطے میں مزید فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
سعودی عرب کے مطابق ان رابطوں کا مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے امکانات کم کرنا ہے۔
یہ مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کے ساتھ جاری ہیں، جن میں قطر سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
فی الحال سعودی اتحاد نے منگل کو مار گرائے گئے ڈرون کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ تازہ واقعے کی ذمہ داری کا بھی تعین نہیں ہو سکا۔




