کراچی: پاکستانی اداکار شہریار منور نے ڈرامہ ’درِ نجات‘ میں اپنے کردار ابو بکر کو بنگلہ دیشی ناظرین اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے پذیرائی ملنے پر مداحوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
شہریار منور نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں بنگلہ دیش کے بنگالی زبان کے اخبار ’پروتھم آلو‘ سے منسوب ایک سرخی شامل تھی۔ اس سرخی میں کہا گیا تھا کہ ڈھاکا کے ناظرین شہریار منور کے کردار ابو بکر سے متاثر ہوئے ہیں۔
اداکار نے اپنی پرفارمنس پر ملنے والے ردعمل کو سراہنے کے لیے یہ خبر دوبارہ شیئر کی، جس کے بعد پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں سوشل میڈیا پر ان کے کردار سے متعلق گفتگو شروع ہو گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامے یوٹیوب اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک سے باہر بھی ناظرین تک پہنچ رہے ہیں۔
ڈرامہ ’درِ نجات‘ میں ابو بکر کا کردار بنگلہ دیشی ناظرین کی توجہ کا مرکز
شہریار منور ڈرامہ ’درِ نجات‘ میں ابو بکر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ڈرامہ یکم اگست 2026 سے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونا شروع ہوا تھا۔
ڈرامے کی کہانی عمیرہ احمد نے تحریر کی ہے، جبکہ ہدایت کاری ثاقب خان نے کی ہے۔ دیگر اداکاروں میں درفشاں سلیم زریاب اور نمیر نواز خان زامل کے کردار میں شامل ہیں۔
ڈرامے کی کہانی انسانی رشتوں، شادی، معافی اور کرداروں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کے گرد گھومتی ہے۔
ابو بکر اور زریاب کا تعلق ناظرین کے درمیان بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں بعض افراد اختلافات سے نمٹنے کے ابو بکر کے انداز اور دوسروں کی مدد کرنے کے رویے کو سراہ رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا کہ ناظرین ابو بکر اور زامل کی شخصیات کا موازنہ کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ناظرین ابو بکر کے رویے کی تعریف کر رہے ہیں، جبکہ دیگر نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کا کردار حقیقی زندگی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی دونوں کرداروں کے تعلقات، اختلافات سے نمٹنے کے انداز اور جذباتی ذمہ داریوں کے حوالے سے گفتگو جاری ہے۔
شہریار منور نے ابو بکر کے کردار کی خامیوں پر بھی بات کی
اپنے کردار کو ملنے والی پذیرائی کے باوجود شہریار منور کا کہنا ہے کہ ابو بکر کو ایک ایسی شخصیت نہیں سمجھنا چاہیے جس میں کوئی خامی نہ ہو۔
بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے میزبان ہارون رشید کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شہریار منور نے ابو بکر کو ایک ایسے شخص کے طور پر بیان کیا جو دوسروں کی درخواستیں مسترد کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے اور ان کی مدد کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
اداکار کے مطابق ابو بکر کی پرورش نے اس کی شخصیت پر اثر ڈالا ہے، جس کے باعث وہ اکثر اپنی ضروریات کے مقابلے میں دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دیتا ہے۔
شہریار منور نے زریاب کے لیے ابو بکر کے جذبات پر بھی بات کی اور بتایا کہ انہوں نے ڈرامے کی ابتدائی اقساط میں ہی اپنے کردار کی زریاب میں دلچسپی کے اشارے شامل کیے تھے۔
اداکار کے ان بیانات کے بعد اس موضوع پر مزید گفتگو ہوئی کہ افسانوی کرداروں کی وہ خصوصیات جنہیں ناظرین پسند کرتے ہیں، حقیقی زندگی کے تعلقات میں بعض اوقات مشکلات بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
پاکستانی ڈراموں کی سرحدوں سے باہر مقبولیت
ڈرامہ ’درِ نجات‘ کو بنگلہ دیش میں ملنے والی توجہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پاکستانی ٹیلی ویژن پروڈکشنز کو پڑوسی ممالک کے ناظرین تک پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
انٹرنیٹ پر شیئر ہونے والی ڈراموں کی مکمل اقساط اور مختصر ویڈیو کلپس کے ذریعے ناظرین ٹیلی ویژن نشریات پر مکمل انحصار کیے بغیر بھی پاکستانی ڈرامے دیکھ سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں تفریحی خبروں سے متعلق کئی اشاعتی اداروں نے ’درِ نجات‘ اور اس کے کرداروں، خصوصاً ابو بکر اور زریاب، کے بارے میں رپورٹس شائع کی ہیں۔
یہ ردعمل اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ انسانی رشتوں اور خاندانی زندگی جیسے موضوعات مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ناظرین کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں۔
پاکستانی اداکاروں اور پروڈکشن کمپنیوں کے لیے اس طرح کی توجہ مقامی ٹیلی ویژن مارکیٹ سے باہر مزید ناظرین تک پہنچنے کے مواقع پیدا کرتی ہے۔
تاہم صرف سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل کی بنیاد پر کسی ملک میں ڈرامے کے ناظرین کی مجموعی تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
شہریار منور کی جانب سے بنگلہ دیشی مداحوں کا شکریہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ’درِ نجات‘ کی نشریات جاری ہیں اور اس کے کرداروں اور کہانی پر ہونے والی گفتگو پاکستان سے باہر بھی پھیل رہی ہے۔





