اسلام آباد: پاکستان نے 28 اکتوبر کو مبینہ طور پر ون چائنا پالیسی سے وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو ملک میں پروازیں چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
یہ پابندی پاکستان کے دیرینہ سفارتی مؤقف کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت اسلام آباد تائیوان کو ایک خودمختار ریاست کے بجائے عوامی جمہوریہ چین کا حصہ تسلیم کرتا ہے۔
پاکستان کے چین کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہیں، جبکہ وہ تائیوان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا۔
اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی فضائی خدمات سے متعلق معاملات بھی پاکستان اور چین کے وسیع تر سفارتی تعلقات کے تناظر میں طے کیے جا رہے ہیں۔
تائیوان سے متعلق پاکستان کا دیرینہ مؤقف
پاکستان سرکاری سفارتی بیانات میں متعدد بار ون چائنا اصول کی حمایت کا اعادہ کر چکا ہے۔
مئی 2026 میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں اسلام آباد نے ایک بار پھر تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیا اور بیجنگ کی جانب سے دوبارہ اتحاد کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی شراکت داری کی اہمیت بھی دہرائی گئی، جس میں بنیادی ڈھانچے، تجارت اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
دوسری جانب تائیوان کی اپنی منتخب حکومت موجود ہے اور وہ سرزمینِ چین سے الگ اپنا انتظامی نظام چلاتا ہے۔
بیجنگ تائیوان پر خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے، جبکہ تائیوان کی سیاسی حیثیت بین الاقوامی سطح پر ایک متنازع معاملہ ہے۔
فضائی شعبے پر ممکنہ اثرات
بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کے لیے متعلقہ ممالک کی ریگولیٹری منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ بہت سے معاملات میں دوطرفہ فضائی خدمات کے معاہدے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کی قومی ہوا بازی پالیسی بین الاقوامی فضائی آپریشنز کے حقوق دینے کے لیے ایک ضابطہ فراہم کرتی ہے، جس میں پروازوں کی تعداد، مقامات اور تجارتی انتظامات سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔
تائیوانی فضائی کمپنیوں کے بارے میں سامنے آنے والا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی سطح پر کسی ملک یا حکومت کو تسلیم کرنے کی پالیسی اور فضائی شعبے کے ضوابط ایک دوسرے پر کس طرح اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس فیصلے سے کون سی فضائی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں، آیا متعلقہ درخواستیں مسافر پروازوں کے لیے تھیں یا مال بردار خدمات کے لیے، اور کیا پابندی کا اطلاق پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں پر بھی ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان چین کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کی اہمیت پر مسلسل زور دے رہا ہے۔
دونوں ممالک بارہا اپنے تعلقات کو سفارتی اور اقتصادی تعاون کا ایک اہم ستون قرار دے چکے ہیں۔




