یروشلم: فلسطین میں قابض قوتوں کے انتخابی کمیشن نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے پارلیمانی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 اکتوبر کو ہونے والی ووٹنگ میں ایسی کسی بے ضابطگی کے شواہد نہیں ملے جو انتخابی نتائج کی شفافیت پر اثرانداز ہوئی ہو۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا گیا اور 9,069 پولنگ اسٹیشنوں کی جانچ کی گئی۔ تحقیقات کے بعد کمیشن نے واضح کیا کہ اعلان کردہ نتائج ووٹرز کی رائے کی درست عکاسی کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکود عرب اکثریتی جماعتوں پر انتخابی نتائج میں ردوبدل کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
حالیہ انتخابات میں عرب جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ نیتن یاہو کا حکمران اتحاد پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
دھاندلی کے الزامات اور غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ انتخابات کے روز بعض افراد کو نقد رقم سے بھرے لفافوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا، جبکہ انہوں نے عرب سیاسی رہنماؤں پر قطر سے مالی معاونت حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔
تاہم انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد منظم انتخابی دھاندلی یا مجموعی نتائج میں ردوبدل کی تصدیق نہیں کرتے۔
دوسری جانب داخلی انٹیلی جنس ادارے شن بیت کی جانب سے انتخابات میں ممکنہ غیر ملکی مداخلت کی الگ تحقیقات جاری ہیں۔
ادارے نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ تحقیقات کا دائرہ محدود ہے اور ان الزامات کو پوری عرب ووٹر برادری سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
3 نومبر کو اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا نے بھی کہا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر کسی شخص سے تفتیش نہیں کی جائے گی۔
اس مؤقف پر نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اٹارنی جنرل ممکنہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
عرب جماعتوں کی 19 نشستیں اہمیت اختیار کر گئیں
27 اکتوبر کے انتخابات کے بعد 120 رکنی پارلیمان میں کوئی بھی بڑا سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں کر سکا۔
نیتن یاہو کے مذہبی قوم پرست اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے سیاسی حریف گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔
عرب اکثریتی جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جس سے نئی حکومت کی تشکیل میں ان کی سیاسی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
آئزنکوٹ عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت سازی کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم اپوزیشن کے بعض رہنما عرب اراکین پر انحصار کرنے کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔
دوسری جانب آئزنکوٹ نے لیکود پر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ سابق وزیراعظم یائر لاپید نے نیتن یاہو کی قیادت میں قومی حکومت کے قیام کا امکان مسترد کیا ہے۔
نئی حکومت کی تشکیل کا آئندہ مرحلہ
صدر آئزک ہرزوگ 4 نومبر کو سرکاری انتخابی نتائج وصول کرنے کے بعد پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت شروع کریں گے، جس کے بعد وہ کسی ایک رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
منتخب رہنما کو اتحادی حکومت تشکیل دینے کے لیے ابتدائی طور پر 28 دن دیے جائیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔
اگر پہلا امیدوار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو صدر کسی دوسرے رہنما کو موقع دے سکتے ہیں۔ مسلسل سیاسی تعطل کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی موجود ہے۔
نیتن یاہو اپنی قیادت میں وسیع قومی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس تجویز پر اختلافات برقرار ہیں۔
انتخابی کمیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات مسترد کیے جانے کے بعد اب توجہ صدر ہرزوگ کی مشاورت اور ممکنہ حکومتی اتحاد کی تشکیل پر مرکوز ہے۔




