اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے مجوزہ ترقیاتی اور سکیورٹی پیکیج کو حتمی شکل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پیکیج کو منگل کے روز حتمی شکل دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی سے متاثرہ عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبے طویل عرصے سے بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم وزیراعظم نے 160 ارب روپے کے پیکیج میں ترقیاتی منصوبوں اور سکیورٹی اقدامات کے لیے مختص رقوم، فنڈز کی فراہمی یا منصوبوں پر عمل درآمد کی مدت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران پاکستانی وفود نے دو مرتبہ تہران کا دورہ کیا۔
ان رابطوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے بھی شامل تھے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے وزیر دفاع اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن کے ساتھ ہونے والے رابطوں کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق بات چیت کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور متعلقہ ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار جاری رکھے گا۔
پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے اضافہ روکنے کا دعویٰ
وزیراعظم نے عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے پاکستان پر اثرات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز زیر غور تھی، تاہم حکومت نے یہ بوجھ صارفین پر منتقل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور متعلقہ حکام نے آئل ریفائنریوں سے مذاکرات کیے، جس کے بعد اضافی منافع میں سے قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنے پر اتفاق ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ستمبر میں شروع کی گئی ایندھن سبسڈی اسکیم دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گی۔
ان کے مطابق اس اسکیم پر اب تک تقریباً 28 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ ڈیڑھ کروڑ افراد سبسڈی ٹوکن استعمال کر چکے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو نے بعض پیٹرول پمپوں پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے، جس پر متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
سردیوں میں گیس اور ایندھن کی فراہمی کا منصوبہ
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی کشیدگی اور سمندری تجارتی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔
ان کے مطابق حکومت سردیوں کے دوران پیٹرول، ایل پی جی، ایل این جی اور دیگر توانائی وسائل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے ایل پی جی کی درآمد اور تقسیم کے نظام میں تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا، جن میں مسابقتی نیلامی اور درآمدی اخراجات کی تفصیلات ظاہر کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق نئے نظام سے حاصل ہونے والی آمدن عوام کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
وفاقی حکومت کے اعلانات میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی، توانائی کی قیمتوں پر قابو پانے اور علاقائی سفارت کاری کو اہمیت دی گئی ہے۔
تاہم خیبر پختونخوا کے لیے اعلان کردہ 160 ارب روپے کے پیکیج کی تقسیم، منصوبوں کی نوعیت اور عمل درآمد کے شیڈول سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔





