تعز: یمن کے صوبے تعز میں حوثیوں سے منسوب گولہ باری سے تین شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے، جبکہ یمن میں تازہ لڑائی، سعودی تنصیبات پر حملوں اور سمندر میں پیش آنے والے واقعات نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔
تعز میں سرکاری دفتر برائے امورِ محاصرہ نے جمعے کی رات بتایا کہ شہر کے جنوب میں واقع ضلع صبر الموادم میں گولہ باری سے تین شہری ہلاک ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت 28 سالہ صفوان سعید عبید، 55 سالہ آسیہ عبدالصمد سعید احمد اور صفیہ ہزاع سیف البعدانی کے نام سے کی گئی۔
دفتر کے مطابق تعز کے جنوب میں الشقب اور مغرب میں عقاقہ کے علاقوں میں الگ گولہ باری سے پانچ شہری زخمی ہوئے، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔
شہری ہلاکتوں کے ساتھ شہر کے اطراف تازہ لڑائی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تعز ملٹری ایکسس نے کہا کہ یمنی فوج نے الشقب محاذ پر حوثیوں کا بڑا حملہ تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد پسپا کردیا۔ فوج نے 16 حوثی جنگجو ہلاک اور دیگر زخمی کرنے کا دعویٰ کیا۔
فوج نے تعز کے مغرب میں الضباب کے علاقے میں الہنگار چوکی، المقببہ اور الکامل کی پہاڑیوں پر حوثی ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی۔ اس کے مطابق الشقب محاذ کے مشرق میں فوجی کمک، ہتھیاروں اور سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں کی جانب سے ان فوجی دعوؤں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے جمعے کی رات کہا کہ شمال مغربی یمن کے صوبے صعدہ میں حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارم تباہ کردیے گئے۔ کارروائی کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ پیش رفت سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات پر حالیہ حوثی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ کے دوران یہ صورت حال خطے پر سلامتی اور معاشی دباؤ مزید بڑھا رہی ہے۔
اسی دوران سعودی عرب کے ساحل کے قریب دو ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق الجبیل سے تقریباً 68 بحری میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر نامعلوم گولے یا دوسرے ہتھیار کا نشانہ بنا۔ عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا اور ابتدائی اطلاع میں کسی ماحولیاتی نقصان کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
دوسرے واقعے میں الجبیل سے تقریباً 78 بحری میل شمال مشرق میں ایک چھوٹی کشتی سے ٹینکر پر راکٹ سے چلنے والا گرینیڈ داغا گیا۔ جہاز کے کپتان کے مطابق اس کے پچھلے بائیں حصے کو نقصان پہنچا، تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ نقصان اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ مکمل نہیں ہوا تھا۔
فراہم کردہ رپورٹ میں دونوں حملوں کے ذمہ داروں کی شناخت نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کا یمن کی لڑائی سے کوئی تعلق ثابت کیا گیا۔
سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس صدارتی بیان کا بھی خیرمقدم کیا جس میں مملکت پر حوثی حملوں اور بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کی مذمت کی گئی۔ ریاض نے حوثیوں کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے لیے تعاون کی حمایت کرتے ہوئے اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا۔
پاکستان کے لیے بھی ان واقعات کے معاشی اثرات اہم ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خلیجی توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے لڑائی کم ہونے کے بعد بھی معمول کی صورت حال بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نومبر تک کی ضروریات کے لیے توانائی کی فراہمی کا انتظام کرچکا ہے۔
یمن کا تنازع ستمبر 2014 میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے بعد شدت اختیار کرگیا تھا۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے مارچ 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔





