واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 16 اکتوبر کو روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدن کو نشانہ بنانے والی نئی پابندیوں اور محصولات سے چھوٹ کے انتظامی حکم پر دستخط کردیے، جبکہ یوکرین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یہ فیصلہ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اس معاہدے کے بعد ہوا جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے روس عالمی منڈی میں بڑی مقدار میں ڈیزل فراہم کرے گا۔
ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کی ہیں۔
چھوٹ کا تعلق ستمبر میں منظور ہونے والے لنڈسی گراہم ایکٹ کے اقدامات سے ہے۔ اس قانون کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک محصولات عائد کیے جا سکتے تھے۔ روس کے دفاعی شعبے، اعلیٰ حکام اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے آئل ٹینکرز بھی اس کے دائرے میں تھے۔
یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کو ٹرمپ نے شرم ناک قرار دیا۔ جواب میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔
برسلز میں یورپی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران زیلنسکی نے 2027 کے لیے مزید 70 ارب یورو، تقریباً 79 ارب امریکی ڈالر، اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائلوں کی درخواست کی۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے روس پر پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کرتے ہوئے یوکرین کی مدد اور ماسکو پر دباؤ بڑھانے پر زور دیا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن نے کہا کہ یوکرین کی مالی ضرورت پوری کی جانی چاہیے۔ فرانس اور جرمنی نے درخواست کا جائزہ لینے کا کہا۔
یورپی یونین پہلے ہی 90 ارب یورو کے قرض کی اقساط جاری کر رہی ہے، جس کا مقصد 2027 کے اختتام تک کیف کی ضروریات میں مدد دینا ہے۔ تاہم یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں سے معیشت کو نقصان اور سردیوں سے پہلے بجلی، حرارت اور پانی کی فراہمی کو خطرات کے باعث مالی خلا برقرار ہے۔
یوکرینی حکام نے کہا کہ خیرسون میں حملے سے 64 سالہ شخص، جبکہ زاپوریژیا میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 11 سالہ لڑکی بھی شامل تھی۔
امریکی فراہم کردہ سیٹلائٹ نظام میں خلل نے بھی یوکرینی کارروائیاں متاثر کی ہیں۔ اسپیس ایکس نے ذمہ داری اور ایک امریکی اہلکار نے ٹرمپ کی مداخلت کی تردید کی۔
مزید مدد کے لیے روس کے تقریباً 200 ارب یورو کے منجمد مرکزی بینک اثاثے استعمال کرنے کی تجاویز دوبارہ سامنے آئی ہیں، تاہم بیلجیئم مخالفت برقرار رکھے ہوئے ہے۔





