دنیا میں لاکھوں خاندانوں کے لیے غربت محض آمدنی میں کمی یا معاشی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ کہیں والدین کو بچوں کی خوراک اور علاج میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، کہیں بچے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں اور کہیں ایک سیلاب یا بیماری برسوں کی جمع پونجی ختم کر دیتی ہے۔
غربت کا سب سے تکلیف دہ پہلو شاید یہی ہے کہ اس میں زندگی کا ہر نیا دن ایک نئی آزمائش بن سکتا ہے۔
اس کے باوجود غربت پر ہونے والی بیشتر بحث معاشی شرح نمو، آمدنی کی سطح اور ترقیاتی اہداف کے گرد گھومتی ہے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے موجود انسانی محرومی، معاشرتی ناہمواری اور وہ بنیادی وجوہ اکثر نظرانداز ہو جاتی ہیں جو نسل در نسل غربت کو برقرار رکھتی ہیں۔

17 اکتوبر کو دنیا بھر میں منائے جانے والے انسدادِ غربت کے عالمی دن پر بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ بے مثال معاشی اور تکنیکی ترقی کے باوجود دنیا کی ایک بڑی آبادی بنیادی ضروریات سے محروم کیوں ہے؟
عالمی غربت: آمدنی سے کہیں بڑا مسئلہ
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2026 میں دنیا بھر میں تقریباً 82 کروڑ 60 لاکھ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں، جو عالمی آبادی کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق انتہائی غربت کی تعریف یومیہ تین امریکی ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہ پیمانہ 2021 کی قوت خرید کے تقابلی معیار کے مطابق مختلف ممالک میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں کے فرق کو مدنظر رکھتا ہے۔

اگرچہ گزشتہ تین دہائیوں میں عالمی سطح پر غربت میں نمایاں کمی آئی، لیکن حالیہ برسوں میں اس پیش رفت کی رفتار سست ہوئی ہے۔ جنگوں، معاشی عدم استحکام، بڑھتی مہنگائی اور کمزور حکومتی نظام نے غربت میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
تاہم غربت کو محض آمدنی کی بنیاد پر سمجھنا کافی نہیں۔
ایک خاندان بظاہر غربت کی مقررہ لکیر سے اوپر ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے صاف پانی، مناسب رہائش، معیاری تعلیم، علاج یا روزگار کا تحفظ حاصل نہیں تو اس کی معاشی اور سماجی مشکلات بدستور برقرار رہتی ہیں۔
غربت کا یہی پہلو اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والا مسئلہ بنا دیتا ہے۔
غریب گھرانوں کے بچے اکثر ناقص غذائیت، محدود تعلیمی مواقع اور صحت کی ناکافی سہولیات کے باعث زندگی کی دوڑ میں ابتدا ہی سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ محرومیاں مزید گہری ہوتی جاتی ہیں اور غربت سے نکلنے کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔

جنگیں اور موسمیاتی تبدیلیاں: غربت میں اضافے کے عوامل
موجودہ عالمی حالات میں غربت کو جنگوں، سیاسی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
مسلح تنازعات صرف انسانی جانوں کا نقصان نہیں کرتے بلکہ معاشی سرگرمیوں، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے مواقع کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔
غزہ اور سوڈان سمیت متعدد تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں شہری آبادی خوراک کی قلت، جبری نقل مکانی، صحت کی سہولیات کی تباہی اور معاشی مواقع کے خاتمے جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
جنگ ختم ہونے کے بعد بھی تباہ شدہ مکانات، اسکولوں، اسپتالوں اور معاشی ڈھانچے کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ یوں جنگ کے اثرات کئی نسلوں تک غربت کی صورت میں برقرار رہتے ہیں۔
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیاں پہلے سے معاشی مشکلات کا شکار آبادیوں کے لیے ایک اضافی خطرہ بن چکی ہیں۔
سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور زرعی پیداوار میں تبدیلیاں خصوصاً ان لوگوں کو متاثر کرتی ہیں جن کے پاس ان حالات سے نمٹنے کے لیے وسائل محدود ہوتے ہیں۔
چھوٹے کسانوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے ایک قدرتی آفت برسوں کی محنت اور معاشی استحکام کو ختم کر سکتی ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ غربت کے خاتمے کی کوششوں کو ماحولیاتی تحفظ، امن و سلامتی اور مؤثر حکمرانی سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔
پاکستان میں غربت: معاشی مشکلات سے آگے کا بحران
پاکستان میں غربت کی صورتحال اس بات کی ایک اہم مثال ہے کہ معاشی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوریاں اور موسمیاتی خطرات کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
عالمی بینک کی 2025 کی رپورٹ Poverty, Equity and Resilience Assessment کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2001 اور 2002 میں 64.3 فیصد تھی، جو 2018 اور 2019 تک کم ہو کر 21.9 فیصد رہ گئی۔
تاہم 2020 کے بعد کورونا وبا، مہنگائی، سیلاب اور معاشی دباؤ کے باعث غربت میں کمی کا رجحان متاثر ہوا اور صورتحال دوبارہ خراب ہونے لگی۔
یہ تبدیلی ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر معاشی ترقی کے فوائد دیرپا نہ ہوں تو غربت میں کمی کو کس حد تک پائیدار کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے؟
پاکستان میں غربت کی وجوہ صرف محدود معاشی وسائل تک نہیں بلکہ ان وسائل کی غیر مساوی تقسیم، دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق، روزگار کے غیر محفوظ مواقع اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
دیہی علاقوں میں زرعی آمدنی کا غیر یقینی ہونا، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بنیادی سہولیات کی کمی معاشی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔
شہری علاقوں میں مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور غیر مستقل روزگار کے باعث ایسے خاندان بھی غربت کے خطرے سے دوچار ہیں جن کے افراد مسلسل کام کر رہے ہیں۔
خواتین کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، جائیداد اور مالی وسائل تک غیر مساوی رسائی اور گھریلو ذمہ داریوں کا غیر متناسب بوجھ ان کی معاشی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔
اسی طرح کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرتی ناہمواری نسل در نسل برقرار رہ سکتی ہے۔
غربت کے یہ اثرات صرف انفرادی خاندانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی پیداوار، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشرتی استحکام پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
محفوظ رہائش: غربت کے خاتمے کی بنیادی شرط
2026 میں انسدادِ غربت کے عالمی دن کی خصوصی توجہ سب کے لیے محفوظ رہائش کے تصور پر مرکوز ہے، جو اقوام متحدہ کے تین سالہ موضوع امن اور انسانی حقوق کے لیے متحد کا حصہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب 80 کروڑ سے زیادہ افراد نامناسب رہائشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رہائش کا مسئلہ صرف سر چھپانے کے لیے چھت کی دستیابی تک محدود نہیں۔
غیر محفوظ عمارتیں، گنجان آباد بستیاں، رہائش کے ناقابل برداشت اخراجات اور ملکیت یا رہائشی حقوق کا عدم تحفظ براہ راست صحت، تعلیم، روزگار اور انسانی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔
پاکستان میں یہ مسئلہ خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے، جہاں بار بار آنے والے سیلاب، غیر منصوبہ بند شہری آبادیوں اور کمزور تعمیراتی ڈھانچے کے باعث لاکھوں افراد مختلف خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔
ایک محفوظ گھر کسی خاندان کو محض رہائش فراہم نہیں کرتا بلکہ بچوں کی تعلیم، صحت کے تحفظ، معاشی سرگرمیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ایک مستحکم بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
اس کے برعکس غیر محفوظ رہائش میں معمولی معاشی نقصان یا قدرتی آفت بھی پورے خاندان کو طویل المدتی مشکلات میں مبتلا کر سکتی ہے۔
اسی لیے مناسب رہائش کو غربت کے خاتمے کی پالیسیوں کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔
کیا معاشی ترقی غربت ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟
معاشی ترقی روزگار پیدا کرنے، قومی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے لیے وسائل فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
لیکن صرف معاشی شرح نمو میں اضافہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں پہنچیں گے۔
اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاشی مواقع کس طرح تقسیم ہوتے ہیں، ملازمین کو مناسب اجرت ملتی ہے یا نہیں اور ریاست بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔
اسی طرح سماجی امداد کے پروگرام کمزور طبقات کو فوری معاشی مشکلات سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں، لیکن صرف مالی امداد غربت کی بنیادی وجوہ ختم نہیں کر سکتی۔
پائیدار حل کے لیے تعلیم، صحت، مناسب رہائش، روزگار، موسمیاتی تحفظ اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں مربوط سرمایہ کاری ضروری ہے۔
اس کے ساتھ شفاف حکمرانی، مؤثر ٹیکس نظام، عوامی وسائل کا منصفانہ استعمال اور جوابدہ ادارے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
غربت کے خاتمے کی پالیسیوں میں ان لوگوں کی شمولیت بھی ضروری ہے جو براہ راست اس مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے حالات، ضروریات اور تجربات کو سمجھے بغیر تیار کی جانے والی پالیسیاں اکثر زمینی مسائل کے بجائے محض انتظامی اہداف تک محدود رہ جاتی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کا بوجھ، ترقیاتی وسائل تک غیر مساوی رسائی اور عالمی تنازعات کے معاشی اثرات بھی غربت میں کمی کی کوششوں کو محدود کرتے ہیں۔
اس لیے غربت کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے قومی اصلاحات کے ساتھ عالمی تعاون بھی ناگزیر ہے۔
وعدوں سے آگے، انسانی وقار کی بحالی
انسدادِ غربت کے عالمی دن کی تاریخ 17 اکتوبر 1987 سے جڑی ہے، جب پیرس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے انتہائی غربت، تشدد اور بھوک کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اجتماع کیا۔
بعد ازاں 1992 میں اقوام متحدہ نے اس دن کو باضابطہ طور پر عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔
تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے باوجود اس اجتماع کا بنیادی پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے کہ غربت محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق اور وقار کا معاملہ بھی ہے۔
آج دنیا کے پاس جدید ٹیکنالوجی، بے پناہ پیداواری صلاحیت اور مالی وسائل موجود ہیں۔ اس کے باوجود کروڑوں افراد بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
یہ صورتحال ترقیاتی نظام کی حدود کے ساتھ ساتھ ان سیاسی اور معاشی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتی ہے جو وسائل کی تقسیم اور عوامی فلاح کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
غربت کا خاتمہ صرف عالمی دن منانے، اعلانات کرنے یا ترقیاتی اہداف مقرر کرنے سے ممکن نہیں ہوگا۔
اس کے لیے ایسی مستقل سیاسی اور معاشی کوششیں درکار ہیں جو لوگوں کو عدم تحفظ، محرومی اور غیر مساوی مواقع کے دائرے سے نکال سکیں۔
حقیقی ترقی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی ملک کی معیشت کتنی دولت پیدا کرتی ہے، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس دولت سے معاشرے کے کمزور ترین افراد کی زندگی میں کتنی بہتری آتی ہے۔
کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک حقیقی ترقی کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک اس کے لاکھوں شہری ایک بیماری، روزگار کے خاتمے یا قدرتی آفت کے نتیجے میں غربت کی گہرائیوں میں گر جانے کے خطرے سے دوچار ہوں۔








