روم: اطالوی استغاثہ نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں سے مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات میں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز اور اعلیٰ فوجی، پولیس اور جیل حکام کو شامل کرلیا ہے۔
16 اکتوبر کو سامنے آنے والے اعلان کے مطابق تحقیقات پہلے اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر مرکوز تھیں۔ اب دونوں وزرا کے علاوہ 12 اعلیٰ حکام کو مشتبہ افراد میں نامزد کیا گیا ہے، جن میں فوجی سربراہ ایال زمیر بھی شامل ہیں۔
کیس کا تعلق ستمبر سے اکتوبر 2025 اور اپریل سے مئی 2026 کے دوران گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو مشنز کو روکنے کی اسرائیلی کارروائیوں سے ہے۔ زیرِ تفتیش مبینہ جرائم میں تشدد، اغوا، جسمانی نقصان، لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانا شامل ہیں۔
روم کے استغاثہ نے کہا کہ تحقیقات ان 50 اطالوی شہریوں کی شکایات پر شروع کی گئیں جنہیں اسرائیلی حکام نے حراست میں لیا تھا۔
پہلے مشن کے کارکنوں نے مارپیٹ، زخمی کرنے، قتل کی دھمکیوں، توہین اور دہشت گردی کے الزامات کی شکایت کی۔ دوسرے مشن کے شرکا نے اندھیرے میں مارپیٹ، بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال سمیت مزید سخت سلوک کی اطلاعات دیں۔
تفتیش کاروں کے مطابق کارروائیوں میں شامل فوجی اور پولیس کمان کے مختلف عہدے داروں کی شناخت کی گئی ہے۔
واقعات کی تفصیلات اور انفرادی ذمہ داری طے کرنے کے لیے جون میں اسرائیل کو عدالتی معاونت کی درخواست بھیجی گئی تھی۔ استغاثہ نے نہیں بتایا کہ اس کا جواب ملا یا نہیں۔
دیگر یورپی ممالک میں بھی اسی نوعیت کی تحقیقات کے باعث یورپی یونین کے عدالتی تعاون کے ادارے یوروجسٹ میں مشاورت ہوئی ہے۔
کاٹز اور زمیر نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ بن گویر نے جون میں تحقیقات کی خبر مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی فورسز کی حمایت جاری رکھنے کا کہا تھا۔
زیرِ تفتیش ہونا جرم ثابت ہونے یا مقدمہ لازماً چلنے کے مترادف نہیں۔ فلوٹیلا منتظمین کے مطابق مشنز کا مقصد امداد پہنچانا اور غزہ کی ناکہ بندی کو چیلنج کرنا تھا، جبکہ اسرائیل بحری ناکہ بندی کو قانونی قرار دیتا ہے۔





