جنیوا: اقوام متحدہ کے ادارۂ اطفال یونیسیف نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد غزہ میں 340 سے زائد بچوں کی ہلاکت اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ادارے کے ترجمان ریکارڈو پائرس نے 16 اکتوبر کو صحافیوں کو بتایا کہ اپنے بچوں کی موت کا سوگ منانے والے خاندانوں کے لیے یہ اعدادوشمار جنگ بندی کی عکاسی نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پانچ لڑکوں اور دو لڑکیوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی، جبکہ فضائی حملوں، ڈرون حملوں اور فائرنگ میں کم از کم 33 بچے شدید زخمی ہوئے۔ دو مزید لڑکے پہلے لگنے والے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔
یونیسیف کے مطابق تقریباً آٹھ لاکھ بچے بے گھر ہیں، جن کی اکثریت خیموں یا تباہ حال عمارتوں میں رہ رہی ہے۔ اندازاً 60 ہزار بچے جنگ یا جنگ بندی کے بعد ماں، باپ یا دونوں کو کھو چکے ہیں، جبکہ تقریباً ہر بچے کو نفسیاتی بحالی کے لیے کسی نہ کسی مدد کی ضرورت ہے۔
ادارے نے فریقین سے جنگ بندی برقرار رکھنے، سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔
یونیسیف نے کہا کہ بچوں کی بحالی محض زندہ بچ جانے تک محدود نہیں۔ انہیں اسکول، علاج، باوقار رہائش، محفوظ کھیل اور اہلِ خانہ و دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ضرورت ہے۔
ادارے نے خوراک کے تجارتی ٹرکوں کے داخلے پر نجی تاجروں اور اسرائیلی حکام کے درمیان تعاون رکنے کی اطلاعات کے بعد امدادی اور تجارتی سامان کی مسلسل فراہمی پر بھی زور دیا۔
پائرس نے جنگ بندی سے پہلے رسد کی بندش اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین کی جانب سے قحط کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خاندانوں کو دوبارہ ضروری سامان اور خدمات سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
یونیسیف کے مطابق جنگ بندی کے بعد پانچ لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو دوبارہ تعلیم سے جوڑنے میں مدد دی گئی، جس میں 200 سے زیادہ تعلیمی مراکز بھی شامل ہیں۔
ادارے نے تین لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو ڈیجیٹل نقد امداد اور 12 لاکھ افراد کو محفوظ پانی بھی فراہم کیا ہے۔





