قدرتی مسکن میں کمی اور سڑکوں پر حادثات مغربی یورپی ہیج ہاگ کی آبادی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ماہرین نے اس چھوٹے کانٹے دار جانور کی تعداد میں مزید کمی روکنے کے لیے تحفظ کے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔
یورپ کے باغات اور دیہی علاقوں میں پایا جانے والا مغربی یورپی ہیج ہاگ بڑھتے انسانی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ شہروں، سڑکوں اور زراعت کے پھیلاؤ سے اس کے قدرتی مسکن سکڑ رہے ہیں اور ان کے درمیان رابطے ختم ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ برائے تحفظِ فطرت، آئی یو سی این، نے 28 اکتوبر 2024 کو اس نوع کی درجہ بندی Least Concern سے تبدیل کرکے Near Threatened، یعنی خطرے کے قریب، کردی تھی۔ یہی اس کی تازہ ترین شائع شدہ عالمی درجہ بندی ہے۔
یہ تبدیلی مغربی یورپی ہیج ہاگ سے متعلق ہے، تمام اقسام کے ہیج ہاگز سے نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ نوع خطرے سے دوچار قرار دیے جانے کے معیار کے قریب پہنچ رہی ہے، تاہم اسے عالمی سطح پر ابھی Endangered قرار نہیں دیا گیا۔
آئی یو سی این کے مطابق اس نوع کی موجودگی والے نصف سے زیادہ ممالک میں اس کی تعداد کم ہوئی ہے۔ ان میں برطانیہ، سویڈن، جرمنی اور نیدرلینڈز بھی شامل ہیں۔
مختلف قومی تخمینوں میں گزشتہ دہائی کے دوران 16 سے 33 فیصد کمی سامنے آئی۔ جرمنی کے باویریا اور بیلجیئم کے فلینڈرز میں بعض مقامی مطالعات نے 50 فیصد تک کمی ظاہر کی۔
آکسفورڈ یونیورسٹی نے مارچ 2025 میں شائع کردہ تحقیقی خلاصے میں گاڑیوں سے ٹکرانے، قدرتی مسکن ختم ہونے اور انسانی مداخلت کو یورپ کے ہیج ہاگز کے لیے اہم خطرات قرار دیا۔
محققین کے مطابق کئی آبادیوں کی باقاعدہ نگرانی نہیں ہوتی، جس سے ان کی اصل صورت حال سمجھنا اور تحفظ کے مؤثر اقدامات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین نے باقی ماندہ قدرتی مسکن محفوظ بنانے، الگ تھلگ علاقوں کے درمیان رابطے بحال کرنے اور کیڑے مار ادویات کا استعمال کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
باغات اور رہائشی علاقوں کو جنگلی حیات کے لیے موزوں بنانا بھی تحفظ کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آئی یو سی این کے مطابق مقامی اقدامات کے ساتھ قومی اور علاقائی سطح پر بہتر نگرانی ضروری ہے۔





