رام اللہ: غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے 16 اکتوبر کو امریکی فوٹو جرنلسٹ ہائڈی لیوین کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کے فلسطینی کاشت کاروں کے خلاف تشدد کی کوریج کررہی تھیں۔ انہیں زخمی حالت میں اسپتال میں علاج کرانا پڑا۔
واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی لیوین نے بتایا کہ ابو فلاح اور ترمس عیا کے دیہات کے قریب لاٹھیاں اٹھائے 50 سے زائد نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر حملہ کیا۔
رام اللہ کے اسپتال میں اپنے بستر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حملہ آور انہیں مسلسل لاتیں مارتے رہے اور اس دوران انہوں نے اپنا چہرہ زمین کی جانب کیے رکھا۔ وہ ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹ پہنے ہوئے تھیں۔ اخبار کے مطابق جیکٹ کے سامنے اور پیچھے واضح طور پر ’’پریس‘‘ لکھا تھا۔
اے ایف پی کی تصاویر میں ان کی ٹانگ اور ہاتھ پر زخم دکھائی دیے۔ خبر رساں ادارے نے خود حملہ ہوتے نہیں دیکھا، تاہم اس کے صحافی نے فلسطینی طبی عملے کو زمین پر موجود ایک شخص کو امداد دیتے اور اسرائیلی فوجیوں کو قریب جانے کی کوشش کرنے والے صحافیوں کو دھکیل کر پیچھے ہٹاتے دیکھا۔
فلسطینی کاشت کار مخلص زہدی نے کہا کہ آبادکاروں نے اپنی زمین پر زیتون جمع کرنے والے لوگوں کو مارا پیٹا اور ان پر پتھر پھینکے۔
فارن پریس ایسوسی ایشن کے مطابق لیوین کا پاسپورٹ، فون، بٹوا اور صحافتی سامان بھی چوری کرلیا گیا۔ تنظیم نے کہا کہ یہ حملہ صحافیوں اور فلسطینی شہریوں کے خلاف مسلسل تشدد کا حصہ ہے اور قابض حکام کارروائی کے بار بار مطالبات کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ سزا سے بچ نکلنے کی روش آبادکاروں کے تشدد کو تقویت دیتی ہے۔
اسرائیلی پولیس نے کہا کہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ فوج کے مطابق تشدد کی اطلاعات کے بعد فوجی اور سرحدی پولیس تعینات کی گئی، جبکہ صحافی کے زخمی ہونے کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔
امریکی سفارت خانے نے حملے کی اطلاعات موصول ہونے کی تصدیق کی، تاہم رازداری کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے مزید تبصرے سے گریز کیا۔
یہ حملہ اس واقعے کے 10 روز بعد ہوا جس میں آبادکاروں نے زیتون کی کٹائی کی کوریج کرنے والے اے ایف پی کے فوٹوگرافر جعفر اشتیہ کو مارا پیٹا تھا۔ انہیں بھی اسپتال میں علاج کرانا پڑا تھا۔
مقبوضہ علاقے میں فلسطینی کاشت کاروں کو بار بار حملوں اور زیتون کے باغات پر قبضوں کا سامنا رہتا ہے، جہاں اسرائیلی آبادکار بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔





