تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ فوجی طاقت ان کے ملک کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ جلد ختم ہونے اور اس کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے گرنے کی پیش گوئی کی ہے۔
سرکاری ٹیلی وژن پر نشر خطاب میں پزشکیان نے کہا کہ ایران کو 1979 کے انقلاب کے بعد سے ناکہ بندی، جنگ اور معاشی مشکلات کی شدید ترین صورتِ حال کا سامنا ہے۔
انہوں نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ ایرانی عوام کی زندگی مشکل بنا کر غصہ اور احتجاج پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے۔ ایرانی صدر نے ان حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی مضبوط بنانے پر زور دیا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے مونٹانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی، کیونکہ ان کے بقول ایران بھی اس کا خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا اور جنگ ختم ہونے پر تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔
ٹرمپ نے ایرانی بحری بیڑے اور فوجی طیاروں کی تباہی کے دعوے بھی کیے، جن کی رپورٹ میں آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد انہیں واضح نہیں کہ واشنگٹن کن حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔
ادھر سی این این نے متعلقہ حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی فوج، ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ جنگی کارروائیوں کی منظوری کی صورت میں، جی بی یو 43/بی بم کے ممکنہ استعمال کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ ہتھیار ’مدر آف آل بمز‘ کے نام سے معروف ہے۔
ممکنہ اہداف میں ایرانی توانائی کی تنصیبات اور جوہری مقامات شامل ہیں۔ تاہم حکام نے گہری زیرزمین تنصیبات تباہ کرنے کی اس بم کی صلاحیت پر سوال اٹھائے اور شہری جانی نقصان کے خدشات ظاہر کیے۔
رپورٹ کے مطابق موسمِ گرما سے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ واشنگٹن نے حالیہ ہفتوں میں فوجی کارروائیوں کے مقابلے میں معاشی دباؤ کو ترجیح دی ہے، جبکہ جنگ اور ایندھن کی مہنگائی نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا رہی ہیں۔





