کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ہفتہ 17 اکتوبر کو مبینہ غیر قانونی سوشل میڈیا مواد سے متعلق مقدمے میں گرفتار اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے دفاعی وکلا کی درخواست بھی مسترد کردی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، کو آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اقرار الحسن کو ابتدائی چار روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی نے لاہور سے گرفتاری اور کراچی منتقلی کے طریقہ کار پر اعتراض کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گرفتاری کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور راہداری ریمانڈ بھی حاصل نہیں کیا گیا۔
وکیل نے کہا کہ مقدمے میں زیر بحث دو منٹ 12 سیکنڈ کی ویڈیو آئینی حدود کے اندر سیاسی رائے کا اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مخالفت یا اسے غلط قرار دینا جرم نہیں۔
اقرار الحسن کے خلاف پیکا کے تحت درج مقدمے میں الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جھوٹا اور ہتک آمیز مواد پھیلایا، جس کا مقصد عوام کو ریاستی اداروں اور حکام کے خلاف اکسانا تھا۔ یہ مقدمے میں عائد الزامات ہیں۔
اس سے قبل جمعرات 15 اکتوبر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ شرقی نے ابتدائی جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست مسترد کردی تھی۔ اس سماعت میں وکیل میاں علی اشفاق نے ایف آئی آر کی بنیاد پر سوال اٹھائے اور متنازع ویڈیو کا تحریری متن پیش کرتے ہوئے اپنے موکل کے بیان کو قانونی قرار دیا تھا۔
گزشتہ کارروائی میں وکلا نے کہا تھا کہ الیکٹرانک آلات پہلے ہی ایجنسی کی تحویل میں ہیں، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ ضروری نہیں۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ برآمد شدہ آلات کے ڈیٹا کا تجزیہ جاری ہے، جس کے لیے تحویل درکار ہے۔
اقرار الحسن کو 12 اکتوبر کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لینے کے بعد کراچی منتقل کیا گیا تھا۔





