پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے 17 اکتوبر کو کہا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہدف کی شناخت اور رہنمائی کرنے والے نئے تارپیڈو نظام کا تجربہ کیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق انتہائی تیز رفتار قرار دیے گئے زم 2.0 نظام کا زیرِ آب تجربہ 15 اکتوبر کو تکنیکی بہتری جانچنے کے لیے کیا گیا۔
ادارے نے کہا کہ تجربے میں آگے بڑھانے والے نظام کی کارکردگی اور راکٹ پروپلشن ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی جانچ ہوئی۔ اس کے مطابق گزشتہ پانچ برس میں 180 سے زیادہ مختلف تجربات کیے گئے ہیں۔ ہتھیار کی کارکردگی سے متعلق یہ دعوے شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع نے کیے ہیں۔
تارپیڈو پانی کے اندر حرکت کرکے بحری اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔ جنوبی کوریا کی کیونگ نام یونیورسٹی کے پروفیسر لم اول چُل نے اے ایف پی کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت اسے حقیقی ہدف اور دھوکا دینے کے لیے چھوڑے گئے مصنوعی اہداف میں فرق کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم سیول میں یونیورسٹی آف نارتھ کورین اسٹڈیز کے سابق صدر یانگ مو جن نے کہا کہ پانی کے اندر پیدا ہونے والا شور کم کرنا ایک بڑا تکنیکی مسئلہ ہے۔ تیز رفتار تارپیڈو کا شور اس کی نشاندہی آسان بنا سکتا ہے، جبکہ ان کے مطابق شمالی کوریا ابھی اس مسئلے پر قابو پانے کی مطلوبہ سطح تک پہنچتا دکھائی نہیں دیتا۔
یہ اعلان آبدوز سے دو اقسام کے کروز میزائلوں اور اس سے پہلے مصنوعی ذہانت کی مدد سے درمیانی فاصلے کے ہائپرسونک میزائل کے مبینہ تجربے کے بعد سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا نے بھی ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل آزمایا۔ پیانگ یانگ نے اس کی رفتار سے متعلق دعویٰ چیلنج کیا، جسے سیول نے مسترد کردیا۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی ممکنہ ملاقات سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ ایشیا کے دورے میں ملاقات ہو سکتی ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
نومبر میں چین میں ایپک سربراہی اجلاس بھی منعقد ہونا ہے۔





