مدر آف آل بمز امریکا کے تیار کردہ ایک طاقتور غیر جوہری بم کا غیر رسمی نام ہے۔ اس کا اصل نام جی بی یو 43 بی میسیو آرڈننس ایئر بلاسٹ ہے، جسے مختصراً MOAB کہا جاتا ہے۔
تقریباً 9800 کلوگرام وزنی یہ بم جی پی ایس کی مدد سے ہدف کی جانب جاتا ہے۔ اس میں جوہری وارہیڈ کے بجائے روایتی دھماکا خیز مواد استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مشہور عرفی نام بھی اس کے اصل نام کے ابتدائی حروف سے اخذ کیا گیا ہے۔
MOAB کو وسیع علاقے میں شدید دھماکا پیدا کرنے، کھلے مقامات پر موجود فوجی اہداف کو نشانہ بنانے اور رکاوٹیں تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دھماکے سے پیدا ہونے والا شدید دباؤ اس کی تباہ کن قوت کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اس بم اور زیر زمین مضبوط تنصیبات تباہ کرنے والے بنکر بسٹر میں بنیادی فرق ہے۔ MOAB کا کام وسیع علاقے میں دھماکے کے اثرات پھیلانا ہے، جبکہ مخصوص بنکر بسٹر بم زمین کے اندر داخل ہونے کے بعد پھٹتے ہیں۔
امریکی فوج کا میسیو آرڈننس پینیٹریٹر، جسے ایم او پی کہا جاتا ہے، ایک الگ اور زیادہ وزنی ہتھیار ہے جو گہرائی میں واقع اہداف کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ملتے جلتے ناموں کے باوجود دونوں بموں کا فوجی کردار مختلف ہے۔
ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی بحث میں یہ فرق اہم ہے۔ زمین کی سطح پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی بم چٹانوں کے نیچے گہرائی میں موجود تنصیبات بھی تباہ کرسکتا ہے۔





