اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کی منظوری کے بعد آئین کا آرٹیکل 245 توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جو مسلح افواج کی ذمہ داریوں اور سول انتظامیہ کی معاونت میں ان کے کردار سے متعلق ہے۔
اس آرٹیکل کے تحت مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات پر، قانون کے تابع، سول انتظامیہ کی مدد کرسکتی ہیں۔ بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے سے پاکستان کا دفاع بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
خیبر پختونخوا کے لیے 11 اکتوبر کے حکم نامے میں شہریوں، املاک اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی نفری اور وسائل کی اجازت دی گئی ہے۔ مطلوبہ تعداد گورنر، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کی مشاورت سے طے کریں گے۔
عدالتوں تک رسائی پر کیا اثر پڑتا ہے؟
شق دو متعلقہ وفاقی ہدایات کی قانونی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کرنے سے روکتی ہے۔ شق تین اور چار متعلقہ علاقوں میں ہائی کورٹ کے آرٹیکل 199 کے اختیار کو محدود کرتی ہیں۔ فوجی معاونت شروع ہونے کے بعد دائر کارروائیاں معطل رہیں گی، تاہم پہلے سے زیرِ سماعت کارروائیوں کو استثنا حاصل ہے۔
کیا اس سے گورنر راج نافذ ہوتا ہے؟
آرٹیکل 245 خود صوبائی حکومت ختم نہیں کرتا اور نہ گورنر راج نافذ کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا کا حکم نامہ الگ سے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت جاری اعلامیے کا حوالہ دیتا ہے اور تعیناتی کی مدت اس سے منسلک کرتا ہے۔
اعلامیہ ایمرجنسی اور صوبائی انتظام سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 245 کا حکم فوجی معاونت کی اجازت فراہم کرتا ہے۔





