سیراکیوز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقی جج نوی پلے کو نوبیل امن انعام دینے کے فیصلے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعزاز انہیں ملنا چاہیے تھا۔
جمعہ کو نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کی قیادت میں امریکا نوبیل امن انعام کا حق دار تھا۔
انہوں نے ناروے کی نوبیل کمیٹی کے انتخاب کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ اس فیصلے نے ناروے پر ان مٹ داغ لگا دیا ہے۔
پلے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ان کا نام نہیں جانتے تھے، تاہم انہیں مبارک باد دیتے ہیں۔
جنوبی افریقی جج اور انسانی حقوق کی علم بردار نوی پلے کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف خدمات پر انعام دیا گیا۔ اعزاز میں طلائی تمغہ، سند اور 12 لاکھ امریکی ڈالر شامل ہیں۔
ٹرمپ نے کمیٹی پر سیاسی جانب داری کا الزام بھی لگایا اور دعویٰ کیا کہ اس کے ارکان نے انعام کی ساکھ متاثر کی ہے۔
جنوری 2025 میں دوبارہ صدر بننے کے بعد سے وہ متعدد بار خود کو نوبیل امن انعام کا حق دار قرار دے چکے ہیں۔
اعلان سے پہلے اوسلو میں ماہرین نے ایران کے خلاف جنگ، گرین لینڈ سے متعلق عزائم، تارکین وطن کی پالیسیوں اور کثیرالجہتی اداروں اور میڈیا پر تنقید کو ان کے امکانات کم ہونے کی وجوہ قرار دیا تھا۔ یہ ماہرین کی آرا تھیں، نوبیل کمیٹی کی جانب سے فیصلے کی وضاحت نہیں۔
دوسری جانب پلے نے انعام کے اعلان کے بعد تالیاں بجاتے مجمع سے مذاقاً کہا کہ اگر مزید تالیاں بجیں تو وہ ٹرمپ کے ساتھ انعام بانٹ سکتی ہیں۔
یہ جملہ بظاہر وینزویلا کی حزب اختلاف کی رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کی طرف اشارہ تھا، جنہوں نے گزشتہ سال نوبیل امن انعام جیتنے کے بعد اپنا تمغہ ٹرمپ کو دیا تھا۔





