اسلام آباد: بین الاقوامی امدادی تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر نے پاکستان کو عالمی سطح پر بھوک کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل کیا ہے، جہاں معاشی دباؤ اور بار بار آنے والی موسمیاتی آفات لاکھوں خاندانوں کے لیے مناسب خوراک کا حصول مشکل بنا رہی ہیں۔
خوراک کے عالمی دن پر 16 اکتوبر کو جاری رپورٹ کے مطابق بحالی کی کوششوں اور بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود 2026 میں پاکستان کے ایک کروڑ چھ لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ خوراک کی مہنگائی، بڑھتے اخراجات، روزگار کے محدود مواقع اور آمدن میں کمی خاندانوں کی قوتِ خرید کم کر رہی ہے۔ زرعی پیداوار کی ناموافق قیمتوں نے دیہی روزگار پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے بعض گھرانے خوراک کم کرنے، آمدن کمانے کے کام آنے والے اثاثے فروخت کرنے اور بچوں کو اسکول سے اٹھانے پر مجبور ہیں۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ ان فیصلوں سے وقتی سہارا تو مل سکتا ہے، لیکن غربت مزید گہری ہونے، بچوں کی غذائیت اور تعلیم متاثر ہونے اور آئندہ بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہونے کا خطرہ ہے۔
دیہی اور آفات سے متاثرہ علاقوں میں علاج، غذائی خدمات، صاف پانی، صفائی اور سماجی تحفظ تک محدود رسائی مشکلات بڑھا رہی ہے۔ امدادی فنڈنگ میں کمی سے روزگار اور بحالی کے پروگرام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی اور بے قاعدہ مون سون بارشوں نے فصلوں، بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں پر انحصار کرنے والے خاندانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ برفانی جھیلوں سے اچانک پانی کے اخراج سے آنے والے سیلاب بھی خطرہ ہیں۔
فصلوں کے نقصان نے خاندانوں کا انحصار بازار سے خریدی گئی خوراک پر ایسے وقت میں بڑھایا ہے جب ان کی قوتِ خرید کم ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مقامی بدامنی بھی روزگار، منڈیوں تک رسائی اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے 47 ممالک میں 26 کروڑ 60 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جو ایک دہائی پہلے سے دوگنا تعداد ہے۔ ان میں سے تقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ افراد رپورٹ میں شامل 10 ممالک میں رہتے ہیں۔





