اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 63 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پیٹرولیم ڈویژن نے جمعرات، 15 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا۔
جمعہ، 16 اکتوبر سے نافذ ہونے والی نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 393 روپے 86 پیسے سے کم ہو کر 390 روپے 23 پیسے ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 65 پیسے سے بڑھ کر 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے حکومت کے یومیہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کے تحت نئی ایکس ڈپو قیمتیں مقرر کی ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی توانائی کی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث کیا گیا ہے، جن میں پلاٹس کی حوالہ جاتی قیمتوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں اتار چڑھاؤ شامل ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وضاحت کی تھی کہ یومیہ قیمتوں کے تعین کے نظام میں عالمی منڈی کی گزشتہ سات روز کی اوسط قیمتوں کو بنیاد بنا کر مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں۔
نئے طریقہ کار کے تحت اوگرا کو ہر بار وزیراعظم یا وفاقی حکومت سے الگ منظوری لیے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمتوں کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
منظور شدہ نظام کے مطابق جمعے کو جاری ہونے والی قیمتیں ہفتے اور اتوار کو بھی برقرار رہنے کی توقع ہے۔
حالیہ کمی کے باوجود حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں 114 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔
پیٹرول بنیادی طور پر موٹر سائیکلوں، نجی گاڑیوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی عام شہریوں کے سفری اخراجات پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل زیادہ تر تجارتی نقل و حمل، زراعت اور بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت میں ردوبدل مال برداری اور کاروباری اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب عالمی توانائی کی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل ردوبدل کر رہا ہے۔





