اسلام آباد: پاکستان گندم کی مزید خریداری کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ کسان آئندہ فصل کی قیمت کے بارے میں یقین دہانی چاہتے ہیں۔ یوں موجودہ رسد اور اگلی فصل کی پیداوار، دونوں گندم پالیسی کی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔
غذائی سال دو ہزار چھبیس سے دو ہزار ستائیس کے لیے گندم درآمد کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ساتویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو سندھ کی باقی ضرورت کے لیے ایک لاکھ پچاسی ہزار میٹرک ٹن گندم کی کم ترین بولیاں قبول کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ادائیگیوں کا انتظام اور ٹی سی پی کے ساتھ سہ فریقی معاہدے مکمل کرنے کو بھی کہا۔ اجلاس کے بیان کے مطابق درآمد کا مقصد مناسب قیمتوں پر گندم کی کافی دستیابی یقینی بنانا ہے۔
یہ فیصلہ اٹھائیس ستمبر کو کھلنے والے دوسرے ٹینڈر کے بعد سامنے آیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق بارہ بولیاں تکنیکی اور مالی شرائط پر پوری اتریں، جبکہ کراچی کے لیے کم ترین پیشکش تین سو انتالیس اعشاریہ چھتیس امریکی ڈالر فی ٹن تھی۔ پہلے ٹینڈر میں تین لاکھ پینسٹھ ہزار ٹن گندم تین سو اڑتالیس اعشاریہ تراسی ڈالر فی ٹن پر خریدی گئی تھی۔
دوسری جانب پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے گزشتہ ہفتے گندم کی امدادی قیمت پانچ ہزار روپے فی چالیس کلو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق پالیسی فیصلوں میں تاخیر اور ناکافی آمدن کسانوں کے لیے اگلی فصل کی منصوبہ بندی مشکل بنا رہی ہے۔
کسانوں کی تحریک میں احتجاجی منصوبے بھی شامل رہے ہیں۔ ایک الگ کسان اتحاد مارچ پچیس ستمبر کو بلوچستان حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد ملتوی کیا گیا تھا۔
ان معاملات کا تعلق گندم پالیسی سے ہے، تاہم کمیٹی کے بیان میں درآمدی فیصلے کو احتجاج سے نہیں جوڑا گیا۔ درآمد اگلی فصل آنے تک رسد کا معاملہ ہے، جبکہ کسانوں کا مطالبہ اس قیمت سے متعلق ہے جو ان کے آئندہ بوائی کے فیصلوں پر اثر ڈالے گی۔





