کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 6 کروڑ 59 لاکھ ڈالر اضافے کے بعد 26 ارب 86 کروڑ 33 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات، 15 اکتوبر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک کروڑ 58 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 21 ارب 46 کروڑ 95 لاکھ ڈالر ہو گئے۔
اس سے قبل 2 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21 ارب 45 کروڑ 37 لاکھ ڈالر تھے۔
دوسری جانب کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر میں 5 کروڑ ایک لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 5 ارب 39 کروڑ 38 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔
گزشتہ ہفتے کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 ارب 34 کروڑ 37 لاکھ ڈالر تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 2 اکتوبر کو 26 ارب 79 کروڑ 74 لاکھ ڈالر تھے، جو 9 اکتوبر تک بڑھ کر 26 ارب 86 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ہو گئے۔
مجموعی ذخائر میں ہفتہ وار اضافے کا تقریباً تین چوتھائی حصہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اضافے سے حاصل ہوا۔
تاہم اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ اضافے کی مخصوص وجوہات بیان نہیں کیں۔
اخبار ڈان کے مطابق 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے اجرا سے حاصل ہونے والی رقوم کے بعد مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بلند سطح پر برقرار ہیں، اگرچہ ملک کو بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جاری کھاتے کی صورتحال میں بہتری اور مقامی منڈی سے ڈالر کی خریداری نے بھی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے معاشی اصلاحات کے تسلسل کے ذریعے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ڈبل بی کیٹیگری تک بہتر بنانے کے حکومتی ہدف کو اجاگر کیا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان دو مالیاتی پروگراموں کے جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہے۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو تقریباً ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی مزید مالی معاونت مل سکتی ہے۔
اس میں تقریباً ایک ارب ڈالر توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جبکہ 21 کروڑ ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے تحت فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔
تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ہفتہ وار بنیادوں پر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملک کو بیرونی مالی ضروریات اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے انتظام جیسے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔





