اسلام آباد: پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات مالی سال 2026 تا 2027 کی پہلی سہ ماہی میں 5.26 فیصد اضافے سے 5.026 ارب امریکی ڈالر ہوگئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 4.775 ارب ڈالر تھیں۔
پاکستان ادارہ شماریات کے جمعرات کو جاری اعدادوشمار کے مطابق یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب بلند پیداواری اخراجات برآمدکنندگان کی مسابقتی صلاحیت اور بیرونی رکاوٹیں ترسیلات کو متاثر کر رہی ہیں۔
برآمدکنندگان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو دوسری سہ ماہی میں برآمدات کی رفتار مزید سست پڑ سکتی ہے۔
اکتوبر 2025 سے افغانستان کے ساتھ تجارت کی معطلی اور علاقائی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں کمی، اہم رکاوٹوں میں شامل رہیں۔
جولائی سے ستمبر کے دوران تیار ملبوسات کی برآمدی مالیت میں 15.69 فیصد اور مقدار میں 17.38 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں شامل زمروں میں تیار ملبوسات نے سب سے نمایاں نمو دکھائی۔
نٹ ویئر کی برآمدی مالیت 4.14 فیصد بڑھی، تاہم مقدار 0.46 فیصد کم ہوگئی۔ دوسری جانب بیڈویئر کی برآمدی مالیت میں 0.07 فیصد اور مقدار میں 0.71 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔
یوں مختلف زمروں کی کارکردگی یکساں نہیں رہی۔ تیار ملبوسات کی آمدن اور مقدار دونوں بڑھیں، جبکہ نٹ ویئر کی زیادہ آمدن کے باوجود برآمد ہونے والی مقدار کم رہی۔
اسی سہ ماہی میں پاکستان کا تیل کا درآمدی بل بھی 6.50 فیصد بڑھ کر 4.02 ارب ڈالر ہوگیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.77 ارب ڈالر تھا۔
خام تیل کی درآمدی مالیت میں 23.10 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ مقدار 6.87 فیصد کم رہی۔ یہ فرق عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق ٹیکسٹائل سے برآمدی آمدن بڑھنے کے ساتھ تیل کی درآمد پر اخراجات بھی بڑھے، جبکہ برآمدکنندگان کے خدشات نے پیداواری اخراجات اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کی اہمیت نمایاں کی ہے۔





