کراچی: سندھ حکومت نے صوبے کی سرکاری جامعات کے پروفیسرز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 65 سال کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد تجربہ کار اساتذہ کو جامعات میں برقرار رکھنا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل سے نمٹنا ہے۔
یہ تجویز جمعہ، 16 اکتوبر کو چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سامنے آئی، جس میں صوبے کی 32 سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری بیان کے مطابق پروفیسرز کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں پانچ سال اضافے کی سمری منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو ارسال کی جائے گی۔ تاہم اس تجویز کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔
اجلاس کے دوران وائس چانسلرز نے بتایا کہ نجی جامعات کی جانب سے زیادہ تنخواہوں اور بہتر مراعات کی پیشکش کے باعث سرکاری جامعات کو قابل اور تجربہ کار اساتذہ برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اجلاس میں جامعات کی مالی مشکلات، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی ضروریات، تعلیمی معیار، تحقیق، بنیادی ڈھانچے، انتظامی امور، طلبہ کی رہائش، وظائف اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت رواں مالی سال کے دوران سرکاری جامعات کو مجموعی طور پر 44 ارب 46 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کر رہی ہے، جو ان کے بقول دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پنشن کی مد میں واجبات اور بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات جامعات کے مالی وسائل کا بڑا حصہ استعمال کر رہے ہیں۔
اجلاس میں جامعات کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
چیف سیکرٹری سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت جامعات کی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی اور وفاقی اداروں کے دائرہ اختیار میں آنے والے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے گی۔
پروفیسرز کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کی تجویز پر عمل درآمد سے قبل صوبائی کابینہ کی منظوری ضروری ہوگی۔





