اسلام آباد: امریکا پاکستان کے معدنی وسائل، خصوصاً بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ پاکستانی حکومت 12 اور 13 نومبر کو پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف) کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ فورم ابتدائی طور پر 8 اور 9 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہونا تھا، تاہم اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب حکومت اس کے ذریعے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ملک کے کان کنی کے شعبے کی جانب راغب کرنا چاہتی ہے۔
جمعہ، 16 اکتوبر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دنیا بھر کے ممالک سے رابطے کر رہا ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں معدنی ذخائر کی تخمینی مالیت تقریباً 7 ہزار ارب امریکی ڈالر ہے، تاہم ان وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے مزید تلاش، ترقی اور انہیں قابلِ استعمال بنانا ضروری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) سرمایہ کاری کے فروغ اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔
پاکستان اس سے قبل بھی اہم معدنیات کے شعبے میں امریکی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے لیے اقدامات کر چکا ہے۔
ستمبر 2025 میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور امریکی کمپنی یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے، جن کا مقصد معدنی وسائل کی ترقی، پراسیسنگ اور متعلقہ نقل و حمل کے شعبوں میں تعاون بڑھانا تھا۔
مجوزہ شراکت داری میں ابتدائی طور پر 50 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ شامل تھا، جبکہ پاکستان میں معدنیات کی پراسیسنگ کے لیے ایک پلانٹ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔
اس کے علاوہ دسمبر 2025 میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی تھی، جس سے پاکستان کے معدنی شعبے کے لیے امریکی مشینری اور خدمات کی برآمدات میں مدد ملنے کا امکان ہے۔
بلوچستان میں واقع ریکوڈک کا تانبے اور سونے کا منصوبہ بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ کا اہم مرکز ہے۔
اس منصوبے کی مشترکہ ملکیت بیرک مائننگ، حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کے تین سرکاری اداروں کے پاس ہے۔
تازہ فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق ریکوڈک منصوبے کی ترقی کے مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 8 ارب 83 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جبکہ سابقہ تخمینوں کے مطابق ابتدائی پیداوار 2028 کے آخر تک شروع ہونے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
تاہم بلوچستان میں سلامتی کی صورتحال، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور مالی وسائل کی دستیابی معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔
نومبر میں ہونے والے فورم سے قبل منعقدہ اسی نوعیت کے ایک اجلاس میں 50 سے زائد ممالک کے تقریباً 5 ہزار مندوبین نے شرکت کی تھی، جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 16 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔
پاکستان کو توقع ہے کہ نومبر میں ہونے والا فورم معدنی وسائل کی تلاش، کان کنی اور پراسیسنگ کے شعبوں میں مزید بین الاقوامی دلچسپی پیدا کرے گا۔
تاہم سرمایہ کاری کے اعلانات اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا یہ مطلب نہیں کہ متعلقہ منصوبوں پر فوری طور پر عملی کام شروع ہو جائے گا۔





