کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے خفیہ اطلاعات پر مبنی الگ کارروائیوں میں عسکریت پسند سرگرمیوں سے منسلک 10 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا بلوچ اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔
وزیراعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے 16 اکتوبر کو میڈیا بریفنگ میں کہا کہ گرفتار افراد میں فتنہ الخوارج، جو پہلے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے معروف تھی، کے چھ مبینہ کارندے، خودکش حملوں کے لیے تیار کی جانے والی دو مشتبہ خواتین اور ایک دوسری کالعدم تنظیم کے دو کمانڈر شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمانڈروں کو شعبان اور کھڈکوچہ سے گرفتار کیا گیا۔ بریفنگ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت بھی موجود تھے۔
حکام کے مطابق تقریباً 90 گرفتار مشتبہ افراد ایک مرکز میں موجود ہیں، جہاں تحقیقات اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
حمزہ شفقات نے الگ کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے اگست میں خطرے کی اطلاع پر کردگاپ کے رہائشی نیاز جتوئی اور حبیب الرحمان کو گرفتار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں سے کوئٹہ میں 14 اگست کو ’’ہیروف تھری‘‘ کے تحت منصوبہ بند حملہ ناکام بنایا گیا۔ چاغی سے کوئٹہ منتقل کیے جانے والے مبینہ اسلحے اور دھماکا خیز مواد، بشمول دستی بموں اور لائٹ مشین گنوں، کے ساتھ متعلقہ گاڑیاں بھی قبضے میں لی گئیں۔
شاہد رند نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے صوبائی ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تاہم عسکریت پسندی چھوڑ کر پاکستان کا آئین اور قانون تسلیم کرنے والوں کو معمول کی زندگی میں واپسی کا موقع دیا جائے گا۔
انہوں نے پنجگور کے رہائشی شہاب کی مثال دی، جو ان کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے ایک کالعدم تنظیم میں شامل ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاندانوں، سیاسی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے نوجوانوں کو مسلح گروہوں سے نکالنے اور معاشرے میں واپس لانے کے پروگرام جاری ہیں۔
حمزہ شفقات نے خدیجہ بلوچ سمیت سابقہ بحالی کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں خاندانوں سے ملایا گیا۔ انہوں نے گزشتہ دو برس میں 16 قوانین کی منظوری اور 17 محکموں کے قیام کا بھی ذکر کیا۔
ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ صوبے میں 3300 کارروائیوں کے دوران 300 سے زائد مشتبہ دہشت گرد گرفتار اور سیکڑوں ہلاک ہوئے، تاہم انہوں نے ان اعدادوشمار کی مدت واضح نہیں کی۔ انہوں نے پولیس کی صلاحیت بہتر بنانے کا ذکر کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں دو اہلکاروں کی شہادت کی اطلاع بھی دی۔
بریفنگ میں شہاب، نیاز جتوئی اور حبیب الرحمان کے ویڈیو بیانات بھی دکھائے گئے۔
دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں میر جہانزیب مینگل نے دشت گوران میں میر قمبر خان مینگل کے گھر پر حملے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے حملے کا الزام فتنہ الہندوستان، جو پہلے بلوچ لبریشن آرمی کے نام سے معروف تھی، پر لگایا۔
ان کے مطابق صبح چھ بجے سے شام چار بجے تک فائرنگ جاری رہی، جس میں احمد نواز مینگل جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گھر میں ان کی والدہ اور بہنیں موجود تھیں اور وزیراعلیٰ سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔
بگٹی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کون سی بلوچ روایت مسافروں اور نہتے افراد کے قتل کی اجازت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ انہیں بے مقصد تصادم میں دھکیلا جا رہا ہے۔
اسما جتک کیس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ان کے خاندان سے رابطے میں ہے، تاہم معاملہ حساس ہونے کے باعث اسمبلی میں تفصیلی گفتگو مناسب نہیں۔
اسما جتک 2025 میں اغوا اور بعد ازاں رہا ہوئی تھیں۔ انہوں نے ایک بااثر شخص پر خاندان کو دھمکانے کا الزام لگایا تھا۔ اگست میں الزام سامنے آنے کے روز ان کے والد کو گھر کے باہر قتل کردیا گیا۔
بگٹی نے اسمبلی میں پہلے عائد کیے گئے اس الزام سے اختلاف کیا کہ قتل کے ذمہ دار ایوان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی معلومات اس الزام کی تائید نہیں کرتیں۔
اجلاس میں پشاور کے اسکول سانحے کے بعد تعلیمی عمارتوں کی حفاظت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سرکاری اور نجی اسکولوں کے معائنے اور غیر محفوظ عمارتیں مرمت مکمل ہونے تک بند رکھنے کا مطالبہ کیا۔
بگٹی نے کہا کہ صوبے کے تمام اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کے معائنے کی ہدایات دی جا چکی ہیں۔ اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی نے مدارس کی عمارتوں کے سخت حفاظتی معائنے پر بھی زور دیا۔





