اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمت تین روپے 93 پیسے فی لیٹر کم کرکے 386 روپے 30 پیسے مقرر کردی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے جمعے کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 17 سے 19 اکتوبر تک نافذ رہیں گی۔
پیٹرول سستا ہونے سے گاڑی، موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے ایندھن کے اخراجات کم ہوں گے۔ تاہم بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں اس بار کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔
دونوں ایندھن کی قیمتیں تین اپریل کی بلند ترین سطح سے نیچے ہیں، جب پیٹرول 458 روپے 41 پیسے اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔ 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد علاقائی توانائی منڈیوں میں خلل کے باعث قیمتیں تیزی سے بڑھی تھیں۔
تازہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پیشِ نظر ملک میں ایندھن کی بچت کے اقدامات جاری ہیں۔ ان میں بازار رات نو بجے بند کرنا اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مختص مقدار تین ماہ کے لیے 50 فیصد کم کرنا شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی بلند قیمتوں کا بوجھ کم کرنا تھا۔
جولائی میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث روزانہ بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ذمہ داری اوگرا کو دی گئی ہے۔
اس سے پہلے مارچ کے آغاز سے قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لیا جا رہا تھا۔ موجودہ نوٹیفکیشن میں 19 اکتوبر تک کے لیے نرخ مقرر کیے گئے ہیں۔





