اس ماں کے لیے قانون کیا معنی رکھتا ہے جو اپنے زخمی بچے کو لے کر اسپتال پہنچے اور اسے معلوم ہو کہ اسپتال بھی تباہ ہو چکا ہے؟
فلسطینیوں کے لیے یہ سوال ایک ایسی تاریخ سے جڑا ہے جو 7 اکتوبر 2023 سے کہیں پرانی ہے۔ یہ بے دخلی، نقل مکانی، قبضے اور ایک قوم کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کے حق سے محروم رکھنے کی تاریخ ہے۔
کہانی کا آغاز 7 اکتوبر سے کرنا اس پوری تاریخ کو نظروں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ اس طرح دنیا سے کہا جاتا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمت کو تو پرکھے، مگر ان حالات کو نہ دیکھے جنہوں نے اسے جنم دیا۔ ساتھ ہی قابض قوت کے تشدد کو یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ محض ردعمل کے طور پر شروع ہوا ہو۔
فلسطینی 6 اکتوبر کو بھی آزاد نہیں تھے۔
ان کی جدوجہد آزادی کسی ایک تنظیم سے شروع نہیں ہوئی، اور فلسطینی کاز کو حماس تک محدود کر کے اس جدوجہد کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ اس تحریک کے بارے میں کوئی بھی مؤقف اختیار کیا جائے، فلسطینیوں کا قبضے سے آزاد زندگی کا مطالبہ نہ کوئی غیر معمولی تقاضا ہے، نہ اس پر سمجھوتا کیا جا سکتا ہے۔
قابض قوت کی بربریت کوئی نئی پیش رفت نہیں۔ جو کچھ بدلا ہے، وہ تباہی کا پیمانہ ہے اور یہ حقیقت کہ یہ سب ایک ایسی دنیا کے سامنے ہوا ہے جس کے پاس قوانین، ادارے اور بے شمار شواہد موجود ہیں، مگر وہ مؤثر تحفظ فراہم کرنے پر آمادہ نہیں۔
وہ انتباہات جو جواب مانگتے ہیں
7 اکتوبر کو ایک ایسا واقعہ قرار دینا جس کا پیشگی اندازہ لگانا بالکل ناممکن تھا، بھی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔
پیشگی انتباہات کی اطلاعات ایسے سوالات اٹھاتی ہیں جنہیں محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سیاسی طور پر ناگوار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میک کال نے کہا تھا کہ مصر نے حملوں سے تین روز پہلے قابض قوت کو خبردار کیا تھا کہ ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں مصری اور اماراتی حکام کی جانب سے مزید انتباہات کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ بنیامین میلیکووسکی، جو بنیامین نیتن یاہو کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے ایسے انتباہات موصول ہونے کی تردید کی ہے۔
کیا معلومات موجود تھیں؟ انتباہات کس کو موصول ہوئے؟ ان کے باوجود مؤثر کارروائی کیوں نہ ہوئی؟
7 اکتوبر سے پہلے کی ناکامیوں کے ساتھ اس دن کے سیاسی استعمال کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔ اپنے فیصلوں پر سوالات کا سامنا کرنے والی قیادت کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اس دن کو فلسطینیوں کی تباہی کے لیے لامحدود اختیار میں بدل دے۔
7 اکتوبر کی کوئی بھی تعبیر اس کے بعد ہونے والے اقدامات پر لاگو قانون کو معطل نہیں کر سکتی۔
فوجی ہدف، لامحدود اجازت نہیں
جنگ کے لیے قواعد کا ہونا اپنے اندر ایک گہری بے چینی رکھتا ہے۔ اس کے باوجود انسانیت نے یہ قواعد اس لیے بنائے کہ وہ بے لگام تشدد کے نتائج کو سمجھتی تھی۔
عام شہری جنگجو نہیں ہیں۔ زخمیوں کو علاج ملنا چاہیے۔ طبی مراکز کو خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
یہ قانونی ذمہ داریاں ہیں، ایسی رعایتیں نہیں جنہیں کوئی قابض قوت اپنی مرضی سے دے یا واپس لے لے۔
7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد قابض قوت کی مسلط کردہ نسل کشی میں عام شہریوں اور شہری آبادی و بنیادی ڈھانچے جیسے کاؤنٹر ویلیو اہداف پر دانستہ اور اندھا دھند حملے شامل تھے، جنہوں نے بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی تحفظات کی خلاف ورزی کی۔
امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصول فریقین کو پابند کرتے ہیں کہ وہ فوجی اہداف کی شناخت کریں، متوقع شہری نقصان کا جائزہ لیں اور اسے کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔ کسی جنگجو کی مبینہ موجودگی اس کے آس پاس موجود ہر شخص کی جان کو قابل قربانی نہیں بنا دیتی۔
رفح کے کویتی امن کیمپ پر 26 مئی 2024 کو قابض قوت کے حملوں کو دیکھیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چھ بچوں سمیت کم از کم 36 افراد کی ہلاکتوں کو دستاویزی شکل دی اور امریکی ساختہ جی بی یو 39 بموں کی شناخت کی۔ اس کی تحقیقات کے مطابق حملے غیر متناسب تھے اور فوج نے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی اقدامات نہیں کیے۔
یہ خاندان پہلے ہی اپنے گھروں سے فرار ہو چکے تھے۔ ان کی عارضی پناہ گاہیں معمولی سا تحفظ بھی مشکل سے فراہم کرتی تھیں۔ جنگجوؤں کی موجودگی قابض قوت کو ان خاندانوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے بری نہیں کرتی تھی۔
اسی طرح انخلا کا انتباہ تحفظ کا متبادل نہیں بن سکتا۔ ایک بزرگ کہاں جائے؟ والدین اپنے زخمی بچے کو کیسے منتقل کریں؟ ایک اور خیمہ کیا تحفظ دے سکتا ہے؟
انتباہ ان سوالات کا جواب نہیں دیتا۔ نہ ہی وہ کسی حملے کو خودبخود قانونی بنا دیتا ہے۔
علاج کی تباہی، اذیت کا تسلسل
صحت کے نظام کی تباہی واضح کرتی ہے کہ تشدد کس طرح پھیلتا گیا۔
11 ستمبر 2025 تک عالمی ادارہ صحت غزہ میں صحت کی سہولتوں پر 793 حملے ریکارڈ کر چکا تھا، جبکہ 34 اسپتالوں کو نقصان پہنچا تھا۔
اسپتال وہ جگہ ہے جہاں کسی زخمی کی جان بچ سکتی ہے۔ اس کی تباہی اس امکان کو ان لوگوں سے بھی چھین لیتی ہے جو ابھی زخمی نہیں ہوئے، اور ان سے بھی جو پہلے ہی علاج کے منتظر ہیں۔
اکتوبر 2024 میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے پایا کہ قابض قوت نے غزہ کے نظام صحت کو تباہ کرنے کی ایک مربوط پالیسی اختیار کی، جس کے تحت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا جرم ارتکاب کیا گیا۔ اس کے نتائج میں طبی عملے اور مراکز پر حملے اور مریضوں کی طبی بنیادوں پر منتقلی پر پابندیاں شامل تھیں۔
قابض قوت ان الزامات کا سہارا لیتی ہے کہ مسلح گروہ شہری سہولتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ ان الزامات کے لیے شواہد اور جانچ ضروری ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی اسپتال انتہائی محدود اور متعین شرائط کے تحت اپنا خصوصی تحفظ کھو بھی دے، تب بھی تناسب اور احتیاط کے اصول لازم رہتے ہیں۔
مریضوں کی انسانی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔ قبل از وقت پیدا ہونے والا بچہ فوجی ہدف نہیں بن جاتا۔
جب بجلی، ادویات اور جراحی کی سہولت ایک ساتھ ختم ہو جائیں تو ان لوگوں کی بقا بھی غیر یقینی ہو جاتی ہے جو بمباری سے بچ نکلتے ہیں۔
بقا کو ہی ناممکن بنا دینا
یہی اصول خوراک اور پانی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی دسمبر 2024 کی تحقیقات نے پانی کی فراہمی پر پابندیوں، بجلی کی بندش، ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے ذریعے قابض قوت کی جانب سے پانی سے دانستہ محرومی کو دستاویزی شکل دی۔ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ اقدامات انسانیت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے جرم اور نسل کشی کے افعال کے زمرے میں آتے ہیں۔
اس کے اثرات ہر گھر تک پہنچتے ہیں۔ پینے کے لیے درکار پانی ہی کھانا پکانے، دھونے اور زخم صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اسپتال انفیکشن روکنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ خاندان بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ ان کے علاج کی سہولتیں تباہ یا ناقابل رسائی ہوتی ہیں۔
جون 2024 میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ قابض قوت نے دیگر جنگی جرائم کے ساتھ بھوک کو جنگی طریقے کے طور پر استعمال کیا اور جبری منتقلی کا ارتکاب کیا۔
یہ نتائج ایک دانستہ طور پر پیدا کیے گئے انسانی بحران کو مسلط کرنے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ فیصلوں، طرز عمل اور ذمہ داری کا تعین کرتے ہیں۔
خوراک سیاسی اطاعت کا انعام نہیں بن سکتی۔ کسی بچے کی پانی تک رسائی اس قوت کے فوجی مقاصد پر منحصر نہیں ہو سکتی جو پانی کی فراہمی کو کنٹرول کرتی ہے۔
واشنگٹن کے فیصلوں کے نتائج
امریکہ کو اس تباہی کا ایک لاتعلق تماشائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رفح کے کیمپ پر حملوں میں شناخت کیے گئے امریکی ساختہ ہتھیار واشنگٹن کی اسلحہ پالیسی کو بے گھر فلسطینیوں کے نقصان سے جوڑتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دیگر ایسے حملوں میں بھی امریکی ہتھیاروں اور پرزوں کی موجودگی کو دستاویزی شکل دی جنہیں اس نے غیر قانونی قرار دیا۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلحے کی مسلسل منتقلی ان امریکی قوانین اور پالیسیوں کی خلاف ورزی تھی جن کا مقصد شہری نقصان کو روکنا ہے۔
اس لیے یہ جانچ ضروری ہے کہ واشنگٹن کیا جانتا تھا، اس نے کیا فراہم کیا اور کن اقدامات کی اجازت دیتا رہا۔
اس کے سفارتی فیصلے بھی اہم ہیں۔ دسمبر 2023 میں امریکہ نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو ویٹو کیا جس میں فوری انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جون 2025 میں اس نے جنگ بندی کی ایک اور قرارداد کو روک دیا، جس کی کونسل کے باقی 14 ارکان نے حمایت کی تھی۔
یہ ویٹو بذات خود میدان جنگ کے جرائم نہیں ہیں۔ یہ سیاسی فیصلے ہیں جن کے نتائج بین الاقوامی اداروں کی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر پڑتے ہیں۔
لہٰذا واشنگٹن کی ذمہ داری کا جائزہ اس کی مادی معاونت اور قابض قوت پر اجتماعی دباؤ روکنے کے لیے اپنے اختیار کے استعمال، دونوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
احتساب کی کوشش پر سزا
نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بنیامین میلیکووسکی، جو بنیامین نیتن یاہو کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور اس وقت کے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ الزامات میں بھوک کو جنگی طریقے کے طور پر استعمال کرنا اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔ قابض قوت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور عدالتی کارروائی کو چیلنج کر چکی ہے۔
تاہم، یہ وارنٹ اب تک بہت کم مؤثر ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ یہ جرم ثابت ہونے کے فیصلے نہیں ہیں۔
اس کے بعد امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ دسمبر 2025 میں عدالت کے رکن ممالک کی اسمبلی کی صدارت نے خبردار کیا کہ مزید امریکی پابندیاں عدالت کی آزادی اور روم اساسنامے کے نظام کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
اگر کسی طاقتور اتحادی کے خلاف تحقیقات کرنے سے تفتیش کار خود سزا کی زد میں آ جائیں تو احتساب کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟
یہ مسئلہ انفرادی مقدمات سے آگے بڑھتا ہے۔ جولائی 2024 کی اپنی مشاورتی رائے میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں قابض قوت کی مسلسل موجودگی کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس نے دیگر ریاستوں کی یہ ذمہ داریاں بھی واضح کیں کہ وہ اس غیر قانونی موجودگی سے پیدا ہونے والی صورت حال کو تسلیم نہ کریں اور نہ اسے برقرار رکھنے میں معاونت کریں۔
فلسطینی آزادی کو غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کیا جا سکتا، جبکہ حکومتیں یہ بحث کرتی رہیں کہ ایک غیر قانونی صورت حال کو زیادہ قابل برداشت بنا کر کیسے پیش کیا جائے۔
جنگ بندی، آزادی نہیں
اکتوبر 2025 کی ’جنگ بندی‘ نے غزہ کا بحران ختم نہیں کیا۔ روئٹرز نے 6 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ قابض قوت کے حملے تقریباً روزانہ جاری تھے اور غزہ کے لگ بھگ دو تہائی حصے پر اس کا کنٹرول تھا۔
12 لاکھ سے زائد افراد اب بھی شدید بھوک کا سامنا کر رہے تھے، جبکہ تعمیر نو تعطل کا شکار تھی اور شہر کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا۔ قابض قوت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ امداد سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے؛ انسانی امداد کے ادارے رسائی اور سامان کی فراہمی کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔
بمباری میں کمی کسی گھر کو بحال نہیں کرتی، کسی اسپتال کو دوبارہ نہیں کھولتی اور کسی بے گھر خاندان کو اس کی زمین پر واپس نہیں پہنچاتی۔
فلسطینی قابض قوت کی مسلط کردہ شرائط کے تحت محض زندہ رہنے سے کہیں زیادہ کے حق دار ہیں۔ وہ وقار، حق خود ارادیت اور ایک ایسے مستقبل کے حق دار ہیں جسے وہ خود تشکیل دے سکیں۔
تاریخ کا آغاز 7 اکتوبر سے کر کے ان پر ہونے والے ظلم کی تاریخ کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ نہ ہی یہ تاریخ ان قوانین سے مستقل استثنا بن سکتی ہے جن کا مقصد فلسطینیوں کو تحفظ دینا ہے۔
ایک عدالت شواہد کا جائزہ لینے میں برسوں لگا سکتی ہے۔ ایک زخمی بچے کے پاس شاید چند منٹ ہوں۔
بین الاقوامی قانون کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ کیا حکومتیں اس بچے کو بچانے کے لیے بروقت اقدام کرتی ہیں، اور کیا وہ ان ڈھانچوں کا مقابلہ کرتی ہیں جو فلسطینیوں کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈالتے ہیں۔
تب تک اسپتال تلاش کرتی وہ ماں، دنیا کے وعدوں اور اس کے فیصلوں کے درمیان فاصلے کی سب سے واضح گواہ رہے گی۔





