بچے کی تصویر صرف اس کا چہرہ نہیں دکھاتی۔ اسکول کا لوگو، گلی کا نام، گھر کا نمبر یا کسی معروف مقام کی جھلک یہ بھی بتا سکتی ہے کہ بچہ کہاں ہے اور کہاں جاتا ہے۔
بچوں کی تصاویر آن لائن شیئر کرنا اب عام ہوگیا ہے، لیکن اس کے ساتھ رازداری کے ایسے خطرات بھی ہیں جن پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی۔ یونیسیف والدین اور نگہداشت کرنے والوں کو مشورہ دیتا ہے کہ تصویر شیئر کرنے سے پہلے دیکھا جائے کہ اس میں کون سی معلومات ظاہر ہورہی ہیں، اسے کون دیکھ سکتا ہے اور کیا بچے کی شناخت یا مقام کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
تصویر پوسٹ کرنے سے پہلے چند سیکنڈ کے لیے اس کے پس منظر کو ضرور دیکھیں۔
اسکول کا نام، یونیفارم، شناختی کارڈ، گھر کا نمبر، گلی کا نام، دکانوں کے نام، گاڑی کی نمبر پلیٹ اور نمایاں مقامات ایسی معلومات ہوسکتی ہیں جن سے کسی شخص کو بچے کے اسکول یا گھر کا اندازہ ہوسکتا ہے۔
مقام کی معلومات کے معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ یہ بتانا کہ بچہ اس وقت اسکول، پارک، ٹیوشن سینٹر یا کسی مخصوص مقام پر موجود ہے، اس کے روزمرہ معمول کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ یونیسیف والدین کو مشورہ دیتا ہے کہ ڈیوائسز اور ایپس میں لوکیشن کی اجازتوں کا جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری لوکیشن شیئرنگ محدود کی جائے۔
یہ بھی سوچیں کہ تصویر کب پوسٹ کی جارہی ہے۔ کسی مقام سے نکلنے کے بعد تصویر شیئر کرنا اس کے مقابلے میں کم معلومات ظاہر کرسکتا ہے کہ تصویر اس وقت پوسٹ کی جائے جب بچہ ابھی وہاں موجود ہو۔
تصاویر کی پرائیویسی سیٹنگز اور میٹا ڈیٹا بھی دیکھیں۔ بعض ڈیوائسز تصاویر کے ساتھ مقام کی معلومات محفوظ کرسکتی ہیں، جبکہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوکیشن اور ناظرین سے متعلق الگ سیٹنگز موجود ہوتی ہیں۔
بڑے بچوں سے یہ بھی پوچھیں کہ وہ اپنی تصویر آن لائن شیئر کیے جانے کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔ یونیسیف بچوں کو ان کی عمر کے مطابق آن لائن رازداری سے متعلق فیصلوں میں شامل کرنے اور انہیں یہ سمجھانے کی تجویز دیتا ہے کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی چیز کو مکمل طور پر ہٹانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔





