پاکستان میں ستمبر کے حوالے سے ایک دلچسپ بات ہے۔
یہ مہینہ جنگ کی یادوں کے ساتھ آتا ہے، یوم آزادی گزرے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوتا، پارلیمان ایک بار پھر سیاسی توجہ کا مرکز بنتی ہے اور بار بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی کشیدگی سڑکوں تک پہنچ رہی ہے۔
اس ستمبر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔
اسلام آباد میں 20 سے 27 ستمبر کے دوران مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کی جانب سے متعدد احتجاجی مظاہروں اور مارچوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث شہر میں ایک ہفتے تک سیاسی سرگرمیاں اور سکیورٹی انتظامات بڑھنے کا امکان ہے۔
جماعت اسلامی 20 ستمبر سے پیٹرولیم لیوی، بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور چینی اور گندم سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مارچ شروع کرے گی، جس کے بعد طویل دھرنے بھی دیے جاسکتے ہیں۔
آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی نے 22 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ کسان تنظیمیں 25 ستمبر کو لانگ مارچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کسانوں کی اس مجوزہ سرگرمی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور ممکن ہے کہ اس کے شیڈول یا طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے۔
پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو احتجاجی سرگرمیوں کے اس سلسلے کے اختتام پر ملک گیر احتجاج کرے گی۔ جماعت کا مطالبہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور جماعت اسلامی کے جاری دھرنوں کی حمایت پر مبنی ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا سے شرکا کی آمد کے لیے لاہور اور پشاور میں اجتماع کے مقامات مقرر کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی حکام نے اسلام آباد کے حساس علاقوں، خصوصاً ڈی چوک، ریڈ زون، فیض آباد، ترنول اور سنگجانی کے اطراف پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔ بعض سڑکوں کو عارضی طور پر بند کرنے اور مختلف مقامات پر آمد و رفت محدود رکھنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ ٹریفک خلل کے پیش نظر سفر کی منصوبہ بندی کریں، اسلام آباد ٹریفک پولیس اور ایف ایم 92.4 سے تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں، ضروری اشیاء کا مناسب انتظام رکھیں اور ممکن ہو تو گھر سے کام کرنے کو ترجیح دیں۔ تعلیمی اداروں اور کاروباری سرگرمیوں کے شیڈول میں بھی ممکنہ رکاوٹوں کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔





