اسلام آباد: دنیا میں حجم کے اعتبار سے 80 فی صد سے زیادہ تجارتی سامان سمندر کے راستے منتقل ہوتا ہے۔ تیل، خوراک، مشینری اور روزمرہ استعمال کی اشیا لے جانے والا یہ نظام عموماً اس وقت توجہ حاصل کرتا ہے جب کسی جہاز پر حملہ ہو، بندرگاہ بند ہوجائے یا اہم بحری راستہ متاثر ہونے سے قیمتیں بڑھنے لگیں۔
ستمبر کی آخری جمعرات کو منایا جانے والا عالمی یوم بحریات اسی غیر نمایاں مگر بنیادی نظام کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ 2026 اور 2027 کے لیے اس کا موضوع “پالیسی سے عمل تک، بحری شعبے میں بہترین کارکردگی” ہے۔
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) جہاز رانی کی حفاظت، بحری سلامتی اور آلودگی کی روک تھام کے عالمی قوانین بناتی ہے۔ یہ اقوام متحدہ کا خصوصی ادارہ ہے۔ تاہم قوانین اسی وقت مؤثر ہوتے ہیں جب حکومتیں انہیں قومی قانون کا حصہ بنائیں، عملے کو تربیت دیں اور بندرگاہوں اور جہازوں پر نافذ کریں۔
پاکستان کا سمندر پر انحصار
پاکستان کے پاس 1000 کلومیٹر سے زیادہ ساحلی پٹی اور تقریباً 290000 مربع کلومیٹر بحری علاقے ہیں۔ ملک کی 90 فی صد سے زیادہ تجارت حجم کے اعتبار سے اور تقریباً 70 فی صد تجارت مالیت کے اعتبار سے بحیرہ عرب کے ذریعے ہوتی ہے۔
کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پاکستان کو عالمی منڈیوں سے ملاتے ہیں۔ انہی بندرگاہوں کے ذریعے توانائی، صنعتی خام مال اور صارفین کی اشیا ملک میں آتی ہیں، جبکہ پاکستانی مصنوعات بیرون ملک پہنچتی ہیں۔
ان بندرگاہوں کو دنیا سے ملانے والے راستوں کو سی لائنز آف کمیونی کیشن کہا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ سمندر کی وہ بڑی شاہراہیں ہیں جن پر تجارتی اور بحری جہاز سفر کرتے ہیں۔
پاکستانی تجارت آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز جیسے اہم راستوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان میں رکاوٹ پیدا ہونے سے جہازوں کو طویل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، مال برداری اور انشورنس کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر صارفین کو اشیا مہنگی ملتی ہیں۔
سی بلائنڈنس کیا ہے؟
سمندر پر اتنا انحصار ہونے کے باوجود پاکستان میں سی بلائنڈنس کا مسئلہ موجود ہے۔ اس اصطلاح کا مطلب سمندر کو نہ دیکھ پانا نہیں بلکہ قومی معیشت، سلامتی اور روزمرہ زندگی میں اس کی اہمیت کو نظرانداز کرنا ہے۔
پنجاب میں ایندھن کی قلت، فیصل آباد میں صنعتی سامان کی تاخیر یا اسلام آباد میں خوراک کی بڑھتی قیمتیں بظاہر زمینی مسائل لگ سکتے ہیں۔ تاہم ان کی وجہ ہزاروں کلومیٹر دور کسی متاثرہ بحری راستے میں موجود ہو سکتی ہے۔
بحری سلامتی صرف بحریہ یا جنگی جہازوں تک محدود نہیں۔ اس میں بندرگاہوں، تجارتی جہازوں، ماہی گیروں، زیر سمندر مواصلاتی تاروں اور سمندری وسائل کو قزاقی، دہشت گردی، اسمگلنگ، سائبر حملوں اور جنگ سے محفوظ رکھنا شامل ہے۔
اس کے برعکس بحری حفاظت کا تعلق حادثات، جہازوں کے تصادم اور فنی خرابیوں کی روک تھام سے ہوتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ
موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے بحری مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سطح سمندر میں اضافہ، طاقتور طوفانی لہریں، ساحلی کٹاؤ، شدید بارشیں اور سمندری طوفان بندرگاہوں، ساحلی آبادیوں اور مواصلاتی نظام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
نشیبی دریائے سندھ کا ڈیلٹا خاص طور پر سمندری پانی کی دراندازی کا سامنا کر رہا ہے۔ اس عمل میں کھارا پانی میٹھے پانی کے ذخائر اور زرعی زمین تک پہنچ جاتا ہے، جس سے فصلیں، پینے کا پانی اور مقامی روزگار متاثر ہوتے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو 2070 سے 2100 کے دوران پاکستان میں تقریباً دس لاکھ افراد ہر سال ساحلی سیلاب کی زد میں آسکتے ہیں۔
کراچی کو شہری سیلاب، شدید گرمی، سمندری طوفان اور سطح سمندر میں اضافے کے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔ بلوچستان کا ساحل مکران سبڈکشن زون کے قریب ہونے کی وجہ سے سونامی اور زلزلے کے خطرے سے بھی دوچار ہے۔ سبڈکشن زون وہ مقام ہوتا ہے جہاں زمین کی ایک بڑی تہہ دوسری تہہ کے نیچے چلی جاتی ہے اور طاقتور زلزلوں کا سبب بن سکتی ہے۔
جہاز رانی خود بھی عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تقریباً 3 فی صد حصہ رکھتی ہے۔ اس لیے صاف ایندھن، کم توانائی استعمال کرنے والے جہاز اور ماحول دوست بندرگاہیں بھی بحری پالیسی کا اہم حصہ بن رہی ہیں۔
پالیسی سے تیاری تک
پاکستانی قیادت نے بحری سلامتی اور عالمی معیار پر عمل درآمد کا عزم دہرایا ہے۔ پورٹ قاسم پر نصب کیا جانے والا جدید ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم جہازوں کے لیے فضائی ٹریفک کنٹرول کی طرح کام کرے گا۔ یہ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گا اور حادثات روکنے میں مدد دے گا۔
تاہم بحری تحفظ کے لیے طوفانوں کی بروقت اطلاع، تربیت یافتہ جہاز ران، محفوظ ڈیجیٹل نظام، آلودگی پر قابو اور مستقبل کے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے والی بندرگاہیں بھی ضروری ہیں۔
مینگرووز قدرتی حفاظتی دیوار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ سمندری لہروں کی طاقت کم کرتے، ساحلی کٹاؤ روکتے اور کاربن ذخیرہ کرتے ہیں۔ ان کا تحفظ ماحول کے ساتھ ماہی گیر آبادیوں اور بندرگاہوں کی حفاظت بھی کرتا ہے۔
عالمی یوم بحریات پاکستان کے لیے ایک واضح حقیقت سامنے لاتا ہے۔ ملک کی زیادہ تر آبادی اور سیاسی توجہ زمین پر ہو سکتی ہے، لیکن اس کی معاشی زندگی کی بنیادی رسد سمندر سے جڑی ہے۔ اس تعلق کو تسلیم کرنا سی بلائنڈنس ختم کرنے اور بحری پالیسی کو قومی ترجیح بنانے کی پہلی شرط ہے۔





