پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر شروع ہوچکی ہے۔ لیکن شاید ہم سوال ہی غلط پوچھ رہے ہیں۔
عام سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہییں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا صوبوں کی سرحدیں بدلنے سے طرزِ حکمرانی بھی بدل جائے گا؟
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک کے انتظامی ڈھانچے پر قومی بحث کی تجویز دیتے ہوئے 12 سے 15 صوبوں کا تصور پیش کیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے ایک دوسرا راستہ بھی تجویز کیا: تقریباً 160 بااختیار ضلعی حکومتیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے نظام میں اصلاح کی بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی حمایت کے بغیر قائم نہیں ہونے چاہییں۔
فی الحال پاکستان کو 12 یا 15 صوبوں میں تقسیم کرنے کا کوئی حتمی حکومتی منصوبہ موجود نہیں۔ اس وقت یہ ایک سیاسی اور پالیسی بحث ہے۔
اور یہی فرق اہم ہے۔
کیونکہ بحث صرف پاکستان کے نقشے کی نہیں۔ بحث یہ ہے کہ اختیار کہاں ہونا چاہیے۔
تبدیلی کے حق میں دلیل
یہ سوال اپنی جگہ بالکل جائز ہے کہ کیا پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آج کی آبادی کے لیے کافی ہے؟
2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ سے زیادہ تھی۔ صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 8 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ تھی۔
یہ اعداد ایک بنیادی سوال پیدا کرتے ہیں۔
کیا کروڑوں افراد پر مشتمل ایک صوبے کے ہر علاقے کی مختلف ضروریات کو ایک صوبائی دارالحکومت سے مؤثر انداز میں پورا کیا جاسکتا ہے؟
چھوٹے صوبوں کے حامیوں کی دلیل ہے کہ حکومت شہریوں کے قریب آسکتی ہے، مختلف علاقوں کو زیادہ سیاسی نمائندگی مل سکتی ہے اور مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
اس دلیل میں وزن موجود ہے۔
عام شہری کے لیے ریاست کا مطلب اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت نہیں۔ اس کے لیے ریاست اس کا سرکاری اسکول، ہسپتال، سڑک، تھانہ، زمین کا دفتر، پانی اور بلدیاتی سہولت ہے۔
اگر انتظامی تبدیلی ان اداروں کو بہتر بناتی ہے تو نئے صوبے صرف نقشے پر کھینچی گئی نئی لکیریں نہیں رہتے۔
لیکن یہاں ایک بہت اہم لفظ ہے: اگر۔
چھوٹا صوبہ لازماً بہتر صوبہ نہیں ہوتا
نیا صوبہ بنانے کا مطلب صرف ایک نئی سرحد کھینچنا نہیں۔
اس کے ساتھ صوبائی حکومت کے ادارے قائم کرنا ہوں گے اور سیاسی نمائندگی، انتظامی ڈھانچے اور مالی وسائل کی موجودہ تقسیم بھی متاثر ہوگی۔ اثاثوں، واجبات، سرکاری ملازمین، آمدن اور ترقیاتی ترجیحات جیسے معاملات بھی طے کرنا ہوں گے۔
پھر این ایف سی اور وفاقی مالیاتی نظام کا سوال آتا ہے۔
18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کو زیادہ اختیارات اور وسائل دیے۔ لیکن عالمی بینک کی 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان ذمہ داریوں اور وسائل کی تقسیم میں اب بھی بنیادی کمزوریاں موجود ہیں۔
یہاں نئے صوبوں کی بحث ایک دلچسپ موڑ لیتی ہے۔
اگر اصل مسئلہ صرف صوبوں کا حجم نہیں بلکہ اختیار اور وسائل کی تقسیم بھی ہے، تو مزید صوبے بنانے سے پرانا مسئلہ نئی سرحدوں کے اندر دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔
یعنی ہم جغرافیہ تو تقسیم کردیں، مگر اختیار نہیں۔
وہ تیسری سطح جسے اکثر بھلا دیا جاتا ہے
اس پوری بحث کا شاید سب سے اہم پہلو مقامی حکومتیں ہیں۔
پاکستان کا آئین پہلے ہی حکومت کو شہری کے قریب لانے کا راستہ دیتا ہے۔
آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں اور منتخب مقامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتقل کریں۔
لیکن عملی طور پر صوبائی دارالحکومت اور مقامی حکومت کے درمیان فاصلہ اب بھی پاکستان کے نظامِ حکمرانی کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
عالمی بینک کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق مجموعی سرکاری اخراجات میں مقامی حکومتوں کا حصہ 2005 میں تقریباً 10 فیصد تھا، جو 2024 میں پانچ فیصد سے بھی کم رہ گیا۔ رپورٹ نے مقامی حکومتوں کو زیادہ قابلِ پیش گوئی انداز میں وسائل منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہاں ایک مشکل سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر اختیار اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومت تک پہنچ کر رک جائے تو کیا اسے حقیقی معنوں میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کہا جاسکتا ہے؟
اور اگر نئے صوبے بن بھی جائیں، لیکن اختیار ایک بار پھر ان کے دارالحکومتوں میں رک جائے، تو کیا مسئلہ حل ہوگا یا صرف اختیار کے مزید مراکز بن جائیں گے؟
لیکن مقامی حکومتیں ہر مسئلے کا متبادل بھی نہیں
اس بحث کو دوسری انتہا تک لے جانا بھی درست نہیں ہوگا۔
مضبوط ضلعی حکومتیں صوبائی حیثیت سے جڑے ہر مطالبے کا جواب نہیں دے سکتیں۔
صوبہ صرف ایک انتظامی دفتر نہیں ہوتا۔ صوبائی حیثیت کے ساتھ قانون سازی، سیاسی نمائندگی، مالی معاملات اور وفاق میں کسی خطے کی حیثیت بھی جڑی ہوتی ہے۔
اسی لیے نئے صوبوں کے مطالبات بعض اوقات انتظامی سہولت سے آگے بڑھ کر علاقائی شناخت، نمائندگی، وسائل اور سیاسی اختیار کے سوالات سے جڑ جاتے ہیں۔
سندھ کا ردِعمل اس حساسیت کو واضح کرتا ہے۔
3 ستمبر کو سندھ اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے ایسی تجاویز کی مخالفت کی جو صوبے کی موجودہ جغرافیائی حدود کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ قرارداد میں سندھ کو تاریخی اور ناقابلِ تقسیم اکائی قرار دیا گیا اور اس کی حدود میں عوام کی مرضی کے بغیر تبدیلی کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
اس مؤقف سے اتفاق یا اختلاف الگ بات ہے۔
لیکن اس سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے:
پاکستان میں صوبائی سرحدیں صرف انتظامی لکیریں نہیں۔ ان کے ساتھ تاریخ، شناخت اور سیاست بھی جڑی ہوئی ہے۔
آئینی رکاوٹ بھی معمولی نہیں
پاکستان کے آئین نے صوبائی حدود تبدیل کرنے کا عمل جان بوجھ کر مشکل رکھا ہے۔
آرٹیکل 239 کے تحت اگر کوئی آئینی ترمیم کسی صوبے کی حدود تبدیل کرتی ہے تو اسے صدر کی منظوری کے لیے اس وقت تک پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اسے اپنی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ووٹوں سے منظور نہ کرے۔
یعنی صوبوں کی سرحدیں اسلام آباد کے کسی انتظامی حکم سے تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔
اس کے لیے آئینی ترمیم اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔
ایک وفاق میں یہ تحفظ اہم ہے، کیونکہ سرحدوں کی تبدیلی سیاسی نمائندگی، وسائل اور وفاق و صوبوں کے تعلقات کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
اور خرچ؟
نئے صوبوں کے مخالفین کا ایک اہم اعتراض اضافی اخراجات ہیں۔
مزید صوبوں کا مطلب مزید صوبائی ادارے بھی ہوسکتے ہیں، اور اس سے انتظامی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ معاملہ صرف یہ کہہ دینے سے حل نہیں ہوتا کہ "زیادہ صوبے یعنی زیادہ خرچ"۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ اضافی انتظامی اخراجات کے بدلے عوامی خدمات، محصولات، جواب دہی اور وسائل کی تقسیم میں کتنی بہتری آتی ہے۔
جب تک کوئی تفصیلی منصوبہ سامنے نہیں آتا، نئے صوبوں کی اصل لاگت یا ممکنہ بچت کا ذمہ دارانہ اندازہ دینا ممکن نہیں۔
اور موجودہ مالیاتی نظام میں بھی مسائل موجود ہیں۔
عالمی بینک کے 2026 کے جائزے کے مطابق مالی سال 2023 میں صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ جاری اخراجات پر خرچ ہوا، جبکہ اضلاع میں وسائل کی تقسیم اب بھی بڑی حد تک ماضی کے طریقۂ کار کی پیروی کرتی رہی، نہ کہ غربت یا عوامی خدمات کی کمی کو۔
اس لیے بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ صوبے کتنے ہوں۔
سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ موجودہ یا نئے صوبے اپنے وسائل کے ساتھ مختلف کیا کریں گے؟
نمائندگی یا بیوروکریسی کی ایک اور تہہ؟
چھوٹے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل قربت ہے۔
اور ان کے خلاف سب سے اہم خدشہ نئے انتظامی ڈھانچوں کی تکرار ہے۔
چھوٹا صوبہ حکومت کو شہری کے قریب لاسکتا ہے اور مختلف علاقوں کو اپنی ترجیحات کے لیے زیادہ سیاسی جگہ دے سکتا ہے۔
لیکن اگر نتیجہ صرف ایک نیا گورنر، اسمبلی، سیکریٹریٹ، وزارتیں اور بیوروکریسی ہو، جبکہ اصل اختیار پھر بھی اوپر محدود رہے، تو شہری کو اختیار کے بجائے حکومت کی ایک اور تہہ ملے گی۔
یہی اصل امتحان ہے۔
سوال یہ نہیں کہ:
پاکستان میں کتنے صوبے ہیں؟
سوال یہ ہے کہ:
اختیار کو شہری تک پہنچنے کے لیے کتنا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے؟
شاید انتخاب صرف دو راستوں کے درمیان نہیں
ہم عموماً اس بحث کو دو راستوں تک محدود کردیتے ہیں: چار صوبے برقرار رکھے جائیں یا مزید صوبے بنائے جائیں۔
شاید معاملہ اتنا سادہ نہیں۔
مختلف مسائل کے حل کے لیے حکومت کی مختلف سطحیں درکار ہوسکتی ہیں۔
کچھ مطالبات واقعی صوبائی نمائندگی سے متعلق ہوسکتے ہیں اور ان کے لیے نئی صوبائی حدود پر بحث ضروری ہوسکتی ہے۔
لیکن صفائی، مقامی سڑکیں، شہری منصوبہ بندی، پانی اور روزمرہ بلدیاتی سہولیات جیسے مسائل شاید مضبوط مقامی حکومتیں زیادہ بہتر طریقے سے حل کرسکیں۔
اس لیے اصل انتخاب لازماً نئے صوبے یا مضبوط مقامی حکومتیں نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کون سا اختیار کس سطح پر ہونا چاہیے — اور کیا اس اختیار کے ساتھ وسائل اور جواب دہی بھی اسی سطح تک پہنچتے ہیں؟
نقشہ بدلنا نسبتاً آسان ہے
پاکستان میں طرزِ حکمرانی کے مسائل موجود ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، غیر مساوی ترقی اور عوامی خدمات کی کمزوریاں انتظامی اصلاحات پر سنجیدہ بحث کا جواز فراہم کرتی ہیں۔
نئے صوبے اس بحث کا حصہ ہوسکتے ہیں۔
بااختیار اضلاع بھی۔
زیادہ مؤثر مالیاتی اختیارات بھی۔
لیکن ان میں سے کوئی ایک قدم اپنے آپ میں مکمل حل نہیں۔
چھوٹا صوبہ بھی خراب حکمرانی کا شکار ہوسکتا ہے۔ ضلع شہری کے قریب ہوکر بھی وسائل اور اختیار سے محروم ہوسکتا ہے۔ اور آئین میں اختیارات کی منتقلی لکھی ہونے کے باوجود اس کا اثر اسکول، ہسپتال یا بلدیاتی دفتر تک نہ پہنچنا بھی ممکن ہے۔
اسی لیے پاکستان کی موجودہ بحث کا آغاز کسی عدد سے نہیں ہونا چاہیے — چار صوبے، بارہ، پندرہ یا 160 اضلاع۔
اسے ایک زیادہ بنیادی سوال سے شروع ہونا چاہیے:
اختیار کہاں ہونا چاہیے تاکہ عام شہری واقعی اس تک پہنچ سکے؟
کیونکہ اگر ڈھانچہ بدل جائے لیکن اختیار کا طریقہ نہ بدلے، تو پاکستان کا نقشہ تو نیا ہوسکتا ہے — طرزِ حکمرانی نہیں۔





