’’پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔‘‘
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 7 اکتوبر کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں ان الفاظ کے ساتھ تصدیق کی کہ پاکستانی فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں تعینات ہیں۔ اس بیان کا وقت بھی غیر معمولی تھا، کیونکہ یہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کی تیسری برسی کے موقع پر سامنے آیا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسے ملک میں اپنی فوج کیوں تعینات رکھتا ہے جو طویل عرصے سے نسبتاً مستحکم ہے اور امریکا کو اپنے قریبی اتحادیوں میں شمار کرتا ہے، جبکہ فلسطینی، جو 1948 سے بے دخلی اور 1967 سے اسرائیلی قبضے کا سامنا کر رہے ہیں، پاکستان کی جانب سے اسی نوعیت کی دفاعی وابستگی سے محروم ہیں؟
گزشتہ تین برسوں کے دوران فلسطینی ایک تباہ کن جنگ سے گزرے ہیں۔ جون 2026 تک غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے تھے۔ ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی قابض افواج نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے، تاہم اسرائیل اس نتیجے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ 10 اکتوبر 2025 سے امریکی ثالثی میں جنگ بندی باضابطہ طور پر نافذ ہے، لیکن غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد بھی 1,460 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ کی تیسری برسی کے موقع پر بھی اسرائیلی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دونوں فریقوں کے درمیان طاقت کا عدم توازن واضح ہے۔ اسرائیل ایک منظم ریاست ہے، جس کے پاس فعال معیشت، حکومتی ادارے، طاقتور فوج اور جدید انٹیلی جنس نظام موجود ہے۔ اسے امریکا سمیت بڑی عالمی طاقتوں کی سفارتی اور عسکری حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کے برعکس فلسطینی نہ مکمل خودمختار ریاست رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی باقاعدہ قومی فوج موجود ہے۔ جنگ نے ان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ ہزاروں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور بے شمار افراد زخمی ہوئے یا تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب گئے۔
سعودی عرب کو درپیش صورتحال اس سے مختلف ہے۔ اس کا مخالف ایران سے منسلک حوثی گروہ ہے، جو ایک غیر ریاستی مسلح تنظیم ہے۔ اگرچہ حوثیوں کا یمن کے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے، لیکن وسائل، عسکری صلاحیت اور بین الاقوامی حیثیت کے اعتبار سے وہ سعودی عرب جیسی ریاست کا مقابلہ نہیں کرتے۔ اس کے باوجود حوثیوں سے لاحق خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ رواں ہفتے سعودی ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔ تاہم سعودی عرب اپنے مخالف کے مقابلے میں کہیں زیادہ دولت مند، عسکری طور پر مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر بااثر ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ بھی اب اس کے دفاعی شراکت داروں میں شامل ہیں۔
پاکستان نے 7 اگست 2026 کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنی دفاعی وابستگی کو باضابطہ شکل دی۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں ریاض کے ساتھ طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور 1960 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔ اس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ 5 اکتوبر کو تینوں ممالک نے حوثیوں کے حملوں کے پیش نظر سعودی عرب میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کے انتظامات پر اتفاق کیا۔
ایسی صورتحال میں یہ توقع غیر منطقی نہیں کہ ایک جوہری طاقت، جو مسلم یکجہتی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم اصول قرار دیتی ہے، فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے بھی کم از کم اسی درجے کے عزم کے ساتھ اپنی عسکری اور سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لائے۔
سعودی عرب کے دفاع کے حق میں عموماً یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ وہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں، جو اسلام کے دو مقدس ترین مقامات ہیں۔ اس مذہبی وابستگی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن مسجدِ اقصیٰ، جو مسلمانوں کا قبلۂ اول اور اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، بھی پوری مسلم دنیا کے لیے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مقدس مقامات کا تحفظ پاکستان کی فوجی تعیناتیوں کا جواز ہے تو یہی اصول مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
تاہم اس ترجیح کی زیادہ قابلِ فہم وضاحت قومی مفادات اور بیرونی دباؤ میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کے اہم معاشی معاونین میں شامل رہا ہے۔ سعودی مالی معاونت میں نقد رقوم کی صورت میں ذخائر، مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی اور لاکھوں پاکستانی کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع شامل ہیں۔ ریاض کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کو نہ صرف معاشی اور تزویراتی فوائد فراہم کرتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر، بالخصوص واشنگٹن میں، اس کی اہمیت بھی بڑھاتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مکہ دفاعی معاہدے کو ایک بڑا، جرات مندانہ اور اہم ابتدائی قدم قرار دیا تھا۔ انہوں نے رواں ہفتے یہ بھی کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ ترکیہ اور پاکستان سعودی عرب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر دیگر ممالک اس میں شامل ہوئے تو یہ انتظام نیٹو طرز کے اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں بنایا گیا۔ اس کے برعکس فلسطین کی عملی حمایت اسرائیل اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں کے لیے پاکستان کی حمایت زیادہ تر بیانات، سفارتی کوششوں، اقوام متحدہ میں تقاریر اور اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپیلوں تک محدود رہی ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور 1967 اور 1973 کی عرب اسرائیل جنگوں میں عرب فضائی افواج کے ساتھ خدمات انجام دینے والے رضاکار پاکستانی پائلٹوں کے علاوہ اس تنازع میں کبھی باقاعدہ فوجی دستے تعینات نہیں کیے۔
اسلام آباد نے غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت پر غور کرنے کا عندیہ ضرور دیا ہے، تاہم فروری میں جن ممالک نے فوجی دستے فراہم کرنے کا اعلان کیا، پاکستان ان میں شامل نہیں تھا۔ پاکستان یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ اس کے فوجیوں کو حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس نوعیت کے مؤقف پاکستان کو مسلم دنیا میں اخلاقی حمایت اور خیرسگالی تو فراہم کرتے ہیں، لیکن غزہ میں موجود فلسطینیوں کے عملی تحفظ کے حوالے سے ان کے اثرات محدود رہتے ہیں۔
اس تمام صورتحال سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پاکستان نے اپنی دفاعی ترجیحات میں ایک ایسے طاقتور اور بین الاقوامی روابط رکھنے والے شراکت دار کو فوقیت دی ہے جو خود کو خطرات سے دوچار قرار دیتا ہے، جبکہ وہ فلسطینی، جو دہائیوں سے بے دخلی، قبضے اور جنگ کے نتیجے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اسی نوعیت کی عملی حمایت سے محروم ہیں۔
یہ فرق پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسلم یکجہتی کے دعووں اور عملی ترجیحات کے درمیان موجود فاصلے کو نمایاں کرتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کس کے دفاع کے لیے فوج بھیجتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی یکجہتی کے اصول کا عملی اطلاق کن حالات میں ہوتا ہے اور کن مفادات کے تحت اس کی حدود متعین کی جاتی ہیں۔
پاکستان سے اس سے بہتر اور زیادہ یکساں اصولی مؤقف کی توقع تھی۔





