کاکول: کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا نے 17 اکتوبر کو خبردار کیا کہ پاکستان کے مخالفین کی کسی بھی غلط فہمی یا غلط اندازے کا جواب ان کے تصور اور حساب سے بڑھ کر ہوگا، جبکہ جوہری ماحول میں تنازع یا جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 154ویں لانگ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ہر قیمت پر وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کا بیان بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی 15 اکتوبر کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے مبینہ سرحد پار دہشت گرد حملے کی صورت میں پاکستان کے خلاف پہلے سے بڑی کارروائی کی بات کی تھی۔
جنرل رضا نے کہا کہ مخالفین گمراہ کن اطلاعات اور بیانیے کی جنگ کے ذریعے پاکستانی عوام اور مسلح افواج کے درمیان تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کے آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد مخالف عناصر نے پراکسی دہشت گردی بڑھائی اور پاکستان کی اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں۔
انہوں نے فارغ التحصیل کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض اور عزم پر قائم رہیں اور پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے قومی اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر جنرل رضا نے کہا کہ اسلام آباد معاہدے میں پاکستان کا کردار علاقائی استحکام اور سفارت کاری سے وابستگی ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مکہ معاہدے کو بھی پائیدار امن کے اسی تصور کا تسلسل قرار دیا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت دہرائی اور شہریوں کو نشانہ بنانے اور شہری تنصیبات کی تباہی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اس سے ایک روز پہلے دفتر خارجہ نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی مذمت کی تھی۔ ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کے تحمل اور امن سے وابستگی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مئی 2025 کی محاذ آرائی سے سبق سیکھے، دھمکی آمیز بیان بازی ترک کرے اور علاقائی امن کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔





