اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ 20 پیسے فی لیٹر اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17 پیسے کمی کر دی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے بدھ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 393.86 روپے، جبکہ ڈیزل کی 396.65 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعرات سے ہوگا۔
پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔
قیمتوں میں یہ ردوبدل مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے دوران ہوا ہے۔ حکومت نے جولائی میں ایندھن کی قیمتیں روزانہ مقرر کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا، جبکہ مارچ سے قیمتوں میں ہفتہ وار تبدیلی کی جا رہی تھی۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس وقت کہا تھا کہ کابینہ اور وزیراعظم نے عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق روزانہ قیمتیں مقرر کرنے کی ذمہ داری اوگرا کو دی ہے۔
حالیہ اضافے کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تین اپریل کی بلند ترین سطح سے کم ہیں۔ اس روز پیٹرول 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔
حکومت نے ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں۔ ان کے تحت بازار رات نو بجے بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کے لیے الگ ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا۔
پیٹرول موٹر سائیکلوں، رکشوں اور نجی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت گھریلو سفری اخراجات پر اثر ڈالتی ہے۔ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث اس کی قیمت مال برداری اور دیگر کاروباری اخراجات سے جڑی ہے۔





