گلگت: پاکستان اور چین کی افواج نے بدھ کو چین کے علاقے سنکیانگ میں قراقرم 2026 مشترکہ تربیتی مشقوں کا آغاز کر دیا، جن کا مقصد دہشت گردی کے خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
چینی مسلح افواج کے سرکاری میڈیا اکاؤنٹ چائنا ملٹری بگل کے مطابق افتتاحی تقریب کورلا شہر کے ایک تربیتی اڈے پر ہوئی۔
دونوں ممالک کے فوجیوں نے انسداد دہشت گردی کے تجربات کا تبادلہ کیا، جبکہ پاکستانی دستے نے چینی ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کا مشاہدہ بھی کیا۔
چینی وزارت دفاع کے پریس سیکرٹری کرنل چن شی نے گزشتہ ہفتے مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے فوجی روابط اور تعاون کو فروغ ملے گا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ردعمل کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مشقوں میں بلند مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کلیئرنس کارروائیوں پر توجہ دی جائے گی۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق تربیتی پروگرام میں ڈرون چلانا، نقل و حرکت کے دوران اہداف تلاش کرنا اور ان پر فائرنگ، اور طویل فاصلے سے نشانہ بازی شامل ہے۔
دونوں افواج مشترکہ کمانڈ اور زمینی دستوں کی عملی مشقوں میں بھی حصہ لیں گی۔
اس سے قبل ستمبر میں پاکستان اور چین نے گلگت بلتستان کے بالائی ہنزہ میں خنجراب کے قریب منتیکا پاس پر مشترکہ گشتی مشق کی تھی۔ یہ مشق تقریباً 4700 میٹر کی بلندی پر ہوئی تھی۔
پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تزویراتی شراکت داری ہے، جس میں دفاعی تعاون کو اہم مقام حاصل ہے۔
رواں سال مئی میں بھی دونوں ممالک نے دوطرفہ فوجی تعاون اور تزویراتی رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔





