کھیتوں میں بیج چھانٹنے، مویشی پالنے، کپاس چننے اور پانی لانے والی خواتین پاکستان کے غذائی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ لیکن ان کا کام اکثر سرکاری ریکارڈ میں جگہ نہیں پاتا۔ اس کا اثر اس بات پر بھی پڑتا ہے کہ انہیں کسان تسلیم کیا جاتا ہے یا نہیں، انہیں حکومتی سہولتیں ملتی ہیں یا نہیں، اور زرعی فیصلوں میں ان کی آواز شامل ہوتی ہے یا نہیں۔
اس سال دیہی خواتین کے عالمی دن کا موضوع ہے: “فطرت کا خیال رکھنے والی دیہی خواتین کسان”۔ اس کا مقصد بیج محفوظ رکھنے، پانی کے انتظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں دیہی خواتین کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ 2026 کو اقوام متحدہ نے خواتین کسانوں کا عالمی سال بھی قرار دیا ہے۔
تاہم اس کام کو صرف “قدرت کا خیال رکھنے” کے عنوان سے سراہنے میں ایک خطرہ بھی ہے۔ دیہی خواتین کا زمین اور قدرتی وسائل سے تعلق محض روایت یا فطری وابستگی کا معاملہ نہیں۔ یہ ہنر اور محنت کا کام ہے، جو اکثر معاشی دباؤ میں کیا جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ضروری نہیں کہ انہیں زمین پر حق، محنت کا معاوضہ یا فیصلوں میں اختیار بھی حاصل ہو۔ خواتین کی ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے یہ سوال نظرانداز نہیں ہونا چاہیے کہ اتنا خطرہ اور بوجھ انہی کے حصے میں کیوں آتا ہے۔
2024 میں پاکستان کے زرعی اور دیہی شعبوں سے متعلق ایف اے او کے جائزے میں بتایا گیا کہ خواتین کسانوں کو اکثر اس لیے تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ “کسان” کی شناخت زمین کی ملکیت سے جوڑ دی جاتی ہے۔ خواتین خاندانی کھیتوں پر کام کرتی ہیں، لیکن ریکارڈ میں انہیں کسان نہیں سمجھا جاتا اور یوں ان کے لیے خدمات اور سہولتوں تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ ایف اے او کی ایک الگ تحقیق میں خواتین نے روزانہ 12 سے 18 گھنٹے کام کرنے، جبکہ زمین، قرض، پانی، ٹیکنالوجی اور زرعی تربیت تک محدود رسائی کی شکایت کی۔
حالیہ اعداد و شمار بھی اس فرق کو واضح کرتے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایس ڈی پی آئی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین میں سے 67 فیصد زراعت سے وابستہ ہیں، لیکن صرف 1.5 فیصد زرعی گھرانے سرکاری ریکارڈ میں خواتین کی سربراہی میں درج ہیں۔ تحقیق کے مطابق 15 سے 49 سال کی شادی شدہ خواتین میں سے تقریباً دو فیصد کے پاس زمین کی انفرادی یا مشترکہ ملکیت تھی۔ یہ شرح اسی عمر کے گروہ سے متعلق ہے؛ اسے پاکستان کی زمین میں خواتین کے مجموعی حصے کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔
اسی تحقیق میں موسمیاتی خطرات کے بڑھتے اثرات بھی سامنے آئے۔ سروے میں شامل ہر 10 میں سے 9 سے زیادہ خواتین کسانوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران انہیں شدید موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ 80 فیصد سے زیادہ نے فصلوں کے نقصان یا کاشتکاری پر منفی اثرات کی اطلاع دی۔ کئی خواتین نے حالات سے نمٹنے کے لیے قرض لیا یا مویشی فروخت کیے۔ ایسے بحران میں خواتین صرف فصل نہیں گنواتیں، بلکہ وہ اثاثے اور ذرائع بھی کھو سکتی ہیں جن سے دوبارہ سنبھلنے میں مدد ملتی ہے۔
اعداد و شمار کو سمجھتے وقت طریقۂ شمار بھی اہم ہے۔ پاکستان کے 2024–25 کے لیبر فورس سروے میں روزگار کی نئی بین الاقوامی تعریف اپنائی گئی، جس کے تحت اپنی ضرورت کے لیے کی جانے والی زرعی پیداوار کو ملازمت میں شمار نہیں کیا گیا۔ حکومت کے مطابق اس تبدیلی کے نتیجے میں 25 لاکھ ایسے کسان ملازمت پیشہ افراد کی گنتی سے خارج ہوگئے۔ اس لیے نئے اعداد و شمار کا پچھلے سروے سے براہ راست موازنہ مشکل ہے۔ یہ تبدیلی یہ بھی دکھاتی ہے کہ کام کو شمار کرنے کا طریقہ کیوں اہم ہے: بلا معاوضہ یا گھریلو ضرورت کے لیے کی جانے والی پیداوار معیشت اور خوراک کے تحفظ میں اہم ہو سکتی ہے، چاہے وہ روزگار کے سرکاری اعداد میں شامل نہ ہو۔
دیہی خواتین ایک جیسی ضروریات رکھنے والا گروہ نہیں۔ اپنی چھوٹی زمین کی مالک خاتون، بے زمین زرعی مزدور، مزارع، خانہ بدوش مویشی پالنے والی اور ماہی گیر خاتون، ہر ایک کو مختلف مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر پالیسیاں صرف زمین کے رجسٹرڈ مالکان کو سامنے رکھ کر بنائی جائیں تو ان خواتین کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے جن کی محنت گھرانوں اور ملک کی غذائی ضروریات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
اس لیے خواتین کو تسلیم کرنے کا مطلب صرف ایک دن خراجِ تحسین پیش کرنا نہیں۔ اس کا مطلب ہے ان کی زرعی محنت کو درست طور پر ریکارڈ کرنا، وراثت اور زمین کے حقوق کا تحفظ، مناسب اجرت اور محفوظ کام کی ضمانت، اور قرض، تربیت، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی امداد تک خواتین کی اپنے نام سے رسائی یقینی بنانا۔ پانی، فصلوں اور آفات سے بحالی کے فیصلوں میں بھی انہیں شامل کرنا ہوگا۔
دیہی خواتین بدلتے موسموں اور بار بار آنے والے بحرانوں کے باوجود پاکستان کے کھیتوں اور برادریوں کو سہارا دیتی ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ادارے انہیں صرف محنت کرنے والی خواتین کے طور پر دیکھیں گے، یا حقوق، وسائل اور فیصلوں میں اختیار رکھنے والی کارکن اور زرعی پیداوار کی شراکت دار بھی تسلیم کریں گے۔





