اسلام آباد: پاکستان 2027 میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت سنبھالے گا۔ یہ 1953 کے بعد پہلا موقع ہوگا جب پاکستان کو دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کا موقع ملے گا۔
وزارت اقتصادی امور نے جمعہ، 16 اکتوبر کو اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ کو 2027 کے لیے باضابطہ طور پر آئندہ چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔
احد خان چیمہ عالمی بینک میں پاکستان کے گورنر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
یہ اعلان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں جاری آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کے سالانہ اجلاسوں کے عمومی اجلاس کے دوران کیا گیا۔
12 سے 18 اکتوبر تک جاری رہنے والے ان اجلاسوں میں 191 ممالک کے 15 ہزار سے زائد نمائندے شریک ہیں، جن میں مرکزی بینکوں کے گورنرز، وزرائے خزانہ، معاشی پالیسی ساز اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق پاکستان نے آخری مرتبہ 1953 میں یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس منصب کے ذریعے پاکستان کو عالمی معاشی چیلنجز، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور رکن ممالک کے درمیان تعاون سے متعلق مباحث میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
اعلان کے بعد احد خان چیمہ کو عالمی بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے چیئرمین کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے عالمی بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکریٹری ارادھنا کمار کپور سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی آئندہ مدت صدارت کے دوران ادارہ جاتی تعاون اور رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
احد خان چیمہ نے بورڈز آف گورنرز کے سبکدوش ہونے والے چیئرمین اور پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر کارلوس کاروالو اسپالڈنگ سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات میں 2027 کے لیے ذمہ داریوں کی منتقلی اور ترجیحات پر گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر اقتصادی امور نے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی معاملات میں ترقی پذیر ممالک کی آواز مؤثر بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے قابلِ اعتماد اور مستقل مالی وسائل کی فراہمی کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے کثیرالجہتی ترقیاتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بنکاک میں جاری سالانہ اجلاسوں میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جہاں پاکستانی حکام عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ معاشی اصلاحات، مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ صدارت آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کے بورڈز آف گورنرز سے متعلق ہے، جو اداروں کی اعلیٰ سطحی نگرانی اور پالیسی معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اس منصب کے حصول سے پاکستان کے ووٹنگ اختیارات، قرضوں کی شرائط یا عالمی مالیاتی اداروں سے مالی معاونت تک رسائی میں خودکار طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
پاکستان 2027 میں باضابطہ طور پر یہ ذمہ داری سنبھالے گا، جسے حکومت نے عالمی معاشی اور ترقیاتی معاملات میں ملک کی شرکت بڑھانے کا ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔





