لکی مروت: محکمہ انسداد دہشت گردی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا مبینہ منصوبہ ساز زاہد گل ہلاک ہوگیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق 16 اکتوبر کو لکی مروت کے علاقے ولائی سگئی میں کارروائی کی گئی۔ محکمے نے زاہد گل کو حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔
18 ستمبر کو کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے میں پہلے بارود سے بھری گاڑی مسجد کے قریب دھماکے سے اڑائی گئی، جس کے بعد دہشت گردوں نے احاطے میں داخل ہوکر پولیس تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
حملے میں 17 پولیس اہلکار اور چھ شہری شہید ہوئے، جبکہ بعد میں رات بھر جاری کلیئرنس آپریشن کے دوران آٹھ حملہ آور مارے گئے۔
سی ٹی ڈی نے کہا کہ زاہد گل نے حملے میں استعمال ہونے والی بارود سے بھری گاڑی کو پولیس لائنز تک پہنچانے میں رہنمائی کی تھی۔
محکمے نے اسے کوہاٹ کے علاقے بلی ٹنگ میں بینک ڈکیتی میں بھی ملوث قرار دیا، جس میں 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ بیان کے مطابق یہ رقم بنوں کے بکاخیل اور جانی خیل علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں میں تقسیم کی گئی۔
سی ٹی ڈی نے کہا کہ زاہد گل متعدد خودکش حملہ آوروں کو کوہاٹ پہنچانے میں سہولت کاری کرتا رہا۔ دو ماہ پہلے وہ نئی کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے لیے بھی ایک خودکش بمبار لایا تھا، تاہم یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
بیان کے مطابق اس نے کوہاٹ میں پاک فضائیہ کی ایک تنصیب اور پولیس ٹریننگ اسکول کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔ نیٹ ورک کے دیگر کارندے پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہیں۔
کارروائی صوبے میں بڑھتے تشدد کے دوران ہوئی ہے۔ سات اکتوبر کو کوہاٹ کی ایک چوکی پر حملے میں سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، جبکہ پولیس نے حملہ پسپا کرنے کی اطلاع دی تھی۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی میں ملک بھر میں تشدد سے متعلق اموات 83 فیصد بڑھیں، جن میں سے 98 فیصد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ریکارڈ ہوئیں۔





