اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت کے ساتھ ایسا قابلِ تصدیق طریقۂ کار ضروری ہے جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کابل سے بات چیت سے گریز نہیں کر رہا اور سلامتی کے جائز خدشات دور کرنے کے لیے دوست ممالک کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا۔
ان کا بیان روس کی جانب سے دونوں ممالک کی درخواست پر ثالثی کی آمادگی ظاہر کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ اس وقت کسی الگ، باضابطہ روسی ثالثی اقدام پر بات نہیں ہو رہی۔
انہوں نے پانچ اکتوبر کے ماسکو فارمیٹ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کو افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق عبارت پر اختلاف سے جوڑا۔ ان کے مطابق افغان وفد نے وہ عبارت قبول نہیں کی جو گزشتہ برس کی دستاویز میں شامل تھی۔
پاکستان، فتنہ الخوارج، جو پہلے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے معروف تھی، اور دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ گروہ افغان علاقے سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ طالبان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ ان سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کی تصدیق کرنے والا نظام ہے۔
اس سے پہلے قطر اور ترکیہ نے اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کرانے میں مدد دی تھی۔ سعودی عرب نے الگ بات چیت کی میزبانی کی، جبکہ چین نے اپریل میں ارمچی میں مذاکرات کرائے، تاہم بنیادی اختلافات دور نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی جانب سے آئندہ کسی دہشت گرد حملے کی صورت میں بڑی کارروائی کی دھمکی کی مذمت کی۔
ترجمان نے کہا کہ ایسی بیان بازی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان کے خلاف نئی جارحیت کا جواب مئی 2025 کی محاذ آرائی سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ گزشتہ تجربے سے سبق سیکھے، دھمکی آمیز طرزِ عمل ترک کرے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔





