اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے بدھ کو پارلیمانی سطح پر رابطے بڑھانے، باہمی اختلافات دور کرنے اور کثیرالجماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جہاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ، آئینی حقوق اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد مشترکہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے پارلیمان کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف مبینہ کردار کشی کی مہم کی مذمت کرتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے الگ کمیٹی کام کرے گی، جبکہ دوسری کمیٹی کثیرالجماعتی کانفرنس کے انعقاد سے متعلق مشاورت آگے بڑھائے گی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر اختلافات
یہ اجلاس وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اقدامات اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آنے والے سیاسی اختلافات کے تناظر میں منعقد ہوا۔
وفاقی حکومت نے صوبے میں سلامتی کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں صوبائی حکومت کے مبینہ عدم تعاون کو اپنے فیصلے کی وجہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام صوبے کے عوامی مینڈیٹ اور آئینی اختیارات کے خلاف ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے صوبائی وسائل پر اختیار کے معاملے پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ انہوں نے سابق فاٹا کے انضمام، گوادر اور سندھ کے جزائر کا حوالہ دیتے ہوئے صوبوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
خیبر پختونخوا کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ اس سے قبل وفاق پر سیاسی مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام بھی عائد کر چکے ہیں۔
عمران خان کی صحت پر تحریک انصاف کے تحفظات
اجلاس کے دوران سلمان اکرم راجہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
تحریک انصاف نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچ گیا ہے۔ پارٹی نے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
تحریک انصاف نے حکومت پر طبی سہولیات اور اہل خانہ تک رسائی محدود کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
تاہم حکومت اس سے قبل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشترکہ سیاسی حکمت عملی کی کوششیں رواں سال اگست میں مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات کے بعد شروع ہوئی تھیں۔
اب تشکیل دی گئی کمیٹیاں مجوزہ کانفرنس کے ایجنڈے اور جماعتوں کے درمیان تعاون پر مشاورت جاری رکھیں گی۔ تاہم مشترکہ پارلیمانی اتحاد کی پیش رفت کا انحصار باہمی اختلافات کے حل اور متفقہ سیاسی لائحہ عمل پر ہوگا۔





