وزیر دفاع نے سالک حسین کے الزامات کو سیاسی صف بندی سے جوڑ دیا، جبکہ مریم نواز کے پانچ ارب روپے کے قانونی نوٹس نے اتحادی جماعتوں کے اختلافات بڑھا دیے۔
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر بدعنوانی کے الزامات صوبے میں متبادل سیاسی بندوبست کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
جمعرات کو اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر، محمد مالک کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بعض سیاسی اور کاروباری شخصیات آئندہ انتخابات سے قبل ممکنہ سیاسی تبدیلی کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ حکومتی شخصیات کو متنازع بنا کر نئی قیادت کے لیے جگہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے درمیان پنجاب حکومت پر بدعنوانی کے الزامات کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
تاہم خواجہ آصف نے واضح کیا کہ یہ ان کا ذاتی سیاسی تجزیہ ہے اور ضروری نہیں کہ ایسا کوئی منصوبہ عملی شکل اختیار کرے۔
خواجہ آصف نے کن سیاسی کوششوں کی نشاندہی کی؟
وزیر دفاع نے کہا کہ بدعنوانی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، اس لیے صرف پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے سیاسی محرکات پر سوال اٹھتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض سرمایہ دار اور سیاسی شخصیات گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ سے ممکنہ سیاسی بحران کے پیش نظر سرگرم ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق ان افراد کی کوشش ہو سکتی ہے کہ موجودہ حکومت کی ساکھ متاثر ہونے کی صورت میں ایک نیا سیاسی گروہ سامنے لایا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا یہ منصوبہ صرف پنجاب تک محدود ہے یا پورے ملک سے متعلق ہے تو انہوں نے کہا کہ فی الحال اس کی توجہ پنجاب پر دکھائی دیتی ہے، تاہم اس سے وابستہ افراد دوسرے سیاسی حلقوں کی حمایت کے بھی خواہاں ہو سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے مبینہ منصوبے کے پیچھے موجود افراد کے نام یا اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
انٹرویو کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے چوہدری خاندان سے تعلقات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ تعلقات ایک عنصر ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے محسن نقوی کی کسی سیاسی منصوبہ بندی میں شمولیت کا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے شواہد فراہم نہیں کیے۔
سالک حسین اور مریم نواز کے درمیان تنازع کیسے شروع ہوا؟
یہ اختلاف اس وقت سامنے آیا جب وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے پیر کو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پنجاب حکومت کی کارکردگی اور اخراجات پر سوالات اٹھائے۔
سالک حسین نے دعویٰ کیا کہ انہیں صوبے میں بدعنوانی کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔
انہوں نے سرکاری طیاروں کے استعمال اور حکومتی اخراجات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ عوامی نمائندوں کو قومی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی وضاحت کرنی چاہیے۔
انٹرویو میں انہوں نے اپنے چچا اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے دور حکومت کی تعریف بھی کی۔
ان بیانات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سالک حسین کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا، جس میں ان سے الزامات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مریم نواز نے مؤقف اختیار کیا کہ سالک حسین نے بدعنوانی کے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سالک حسین کی ناراضی کی وجہ گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی تبدیلی ہے، کیونکہ وہ اپنی پسند کے افسر کی تعیناتی چاہتے تھے۔
دوسری جانب سالک حسین نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انٹرویو میں پوچھے گئے سوالات کے جواب دیے تھے اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے قانونی نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ جلد اس کا جواب دیں گے۔
اتحادی جماعتوں کے تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
اس تنازع نے مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے سیاسی تعلقات کو بھی زیر بحث لا دیا ہے۔
سالک حسین، مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے ہیں، جبکہ ان کے بڑے بھائی چوہدری شافع حسین پنجاب میں مریم نواز کی کابینہ کا حصہ ہیں۔
چوہدری خاندان میں سیاسی اختلافات اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد نمایاں ہوئے تھے۔
چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم حکومتی اتحاد کا ساتھ دیا، جبکہ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
موجودہ تنازع کے دوران شافع حسین نے اپنے بھائی کے مؤقف اختیار کرنے کے حق کی حمایت کی اور سیاسی اختلافات بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا۔
خواجہ آصف کے متبادل سیاسی بندوبست سے متعلق دعوے کی فی الحال کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
تاہم سالک حسین کے الزامات اور مریم نواز کے قانونی نوٹس نے اتحادی جماعتوں کے درمیان حکومتی کارکردگی، انتظامی اختیارات اور سیاسی اثرورسوخ سے متعلق اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
اب توجہ سالک حسین کے قانونی جواب اور اس بات پر ہوگی کہ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) اس تنازع کو کس طرح حل کرتی ہیں۔





