کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف مبینہ کردار کشی، نجی زندگی میں مداخلت اور سیاسی دباؤ کے خلاف سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
جمعہ کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت خضدار، آواران، موسیٰ خیل، ہرنائی، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، زیارت، نصیر آباد، جعفرآباد، چمن، پشین، قلات، مستونگ اور کوہلو میں احتجاج کیا گیا۔
مظاہروں میں پارٹی عہدیداروں، کارکنوں، مذہبی شخصیات اور مقامی سیاسی و سماجی نمائندوں نے شرکت کی اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
مقررین نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی نجی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے ویڈیو بنائی گئی، جسے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی رہنما کے گھر کی مبینہ نگرانی اور نجی زندگی سے متعلق مواد کی تشہیر شہریوں کے آئینی حقوق اور شخصی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔
مبینہ ڈرون نگرانی کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ
جے یو آئی ف کے رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کی مبینہ ڈرون ویڈیو بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مقررین نے کہا کہ واقعے میں براہ راست یا پس پردہ ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی قیادت کی ساکھ متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلافات کا حل مکالمے، دلائل اور آئینی جدوجہد کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، نہ کہ مخالفین کی نجی زندگی کو نشانہ بنا کر۔
تاہم مبینہ ڈرون نگرانی اور منظم کردار کشی کی مہم سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سندھ کی قیادت کے سیاسی انتقام کے الزامات
دوسری جانب جے یو آئی ف سندھ کی قیادت نے ایک اجلاس میں صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو کی رہائش گاہ کی مبینہ ڈرون نگرانی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
اجلاس میں مفتی اسعد محمود، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر رہنماؤں کو قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جانے اور مختلف شہروں میں دکانیں سیل کرنے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔
پارٹی رہنماؤں نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت جمعیت علمائے اسلام کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کے مطابق پارٹی کو صوبائی خودمختاری، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، اٹھارویں آئینی ترمیم سے متعلق ممکنہ تبدیلیوں اور معدنی وسائل کے معاملات پر مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پارٹی قیادت نے واضح کیا کہ وہ مبینہ دباؤ کے باوجود اپنی آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر عدم تشدد کی پالیسی کے تحت شاہراہوں اور اہم سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
معدنی وسائل کے معاہدوں میں شفافیت پر زور
ادھر اسلام آباد میں جمعیت طلبہ اسلام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے پاکستان کے معدنی وسائل میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت چین، امریکا یا کثیرالقومی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی مخالف نہیں، تاہم ایسے معاہدوں کی شرائط اور مالی فوائد کی تقسیم واضح ہونی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے منافع میں پاکستان، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی آبادیوں کا کتنا حصہ مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے قبائلی اضلاع میں بار بار کرفیو نافذ کرنے کی حکومتی پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ بعض علاقوں میں سکیورٹی اقدامات کی آڑ میں غیر قانونی تجارتی راستوں کو سہولت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی کا خطرہ برقرار ہے تو ہفتے کے مخصوص دنوں میں ہی کرفیو نافذ کرنے کی کیا وجہ ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حزب اختلاف کی مختلف جماعتیں حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی اور کثیرالجماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے مشاورت کر رہی ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قیادت کے خلاف مبینہ دباؤ اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کے باوجود احتجاج اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔





