اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں سے ملاقات کے قانونی حق کی وضاحت طلب کر لی۔ عدالت نے قرار دیا کہ قیدیوں سے ملاقات کے لیے لارجر بینچ پہلے ہی طریقہ کار وضع کر چکا ہے۔
جسٹس عمیر مجید ملک نے درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات سمیت سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے نشاندہی کی کہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق پہلے سے عدالتی احکامات موجود ہیں، جن کے تحت آئندہ درخواستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ درخواست سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل، محمود باقی مولوی اور بیرسٹر محمد علی خان سیف کی جانب سے ایڈووکیٹ فیصل چوہدری کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران جسٹس عمیر مجید ملک نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس قانونی بنیاد پر عمران خان سے ملاقات کا حق رکھتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات کی بنیادی وجہ ملاقاتوں کے لیے پہلے سے موجود عدالتی طریقہ کار ہے۔
اس موقع پر وکیل فیصل چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ درخواست گزار عدالت کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کی مکمل پابندی کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کی اجازت ملنے کی صورت میں کمیٹی کے ارکان بعد ازاں میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔
عدالت نے واضح کیا کہ لارجر بینچ کے حکم میں اس نوعیت کی آئندہ درخواستوں پر سماعت اور مناسب احکامات جاری کرنے کا طریقہ پہلے ہی متعین کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے معاملے پر حکم جاری کرنے کا عندیہ دیا۔
درخواست میں ملاقاتوں پر پابندی اور صحت سے متعلق خدشات
قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کے اہل خانہ، قریبی عزیزوں اور ساتھیوں کی ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے باعث ان کی صحت اور جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔
درخواست گزاروں کے مطابق مسلسل ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے سے عمران خان کی حالت اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں قیاس آرائیوں کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
درخواست میں آئین کے آرٹیکل 9 اور 14، پاکستان پریزن رولز 1978 اور قیدیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی۔
کمیٹی کے ارکان نے مؤقف اپنایا کہ ان کی کوششوں کا مقصد سیاسی مکالمے اور قومی مفاہمت کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔
ملاقات کا معاملہ پہلے سے طے شدہ عدالتی طریقہ کار سے مشروط
سماعت کے دوران بنیادی قانونی سوال یہ رہا کہ آیا درخواست گزاروں کو عمران خان سے ملاقات کا حق حاصل ہے اور کیا ان کی درخواست پہلے سے قائم عدالتی طریقہ کار کے مطابق قابلِ سماعت ہے۔
ایک جانب درخواست گزار ملاقات کو عمران خان کی خیریت دریافت کرنے اور سیاسی رابطوں کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب عدالت نے ملاقاتوں کے لیے موجود قانونی ضابطوں اور لارجر بینچ کے احکامات کی اہمیت پر زور دیا۔
سماعت میں قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ارکان کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس معاملے میں آئندہ پیش رفت پہلے سے مقرر کردہ عدالتی طریقہ کار اور متعلقہ عدالتی احکامات کے مطابق ہوگی۔





